ٹرمپ نے ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے

واشنگٹن(رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 ستمبر 2025 کو ٹک ٹاک کی امریکی آپریشنز کی فروخت کیلئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔ نائب صدر کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر تک متوقع ہے۔

ٹک ٹاک کی امریکی آپریشنز کی فروخت کا یہ منصوبہ 2024 کے قومی سلامتی قانون کے تقاضوں کے مطابق ہے، جس کے تحت امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کیلئےخطرہ قرار دیا تھا۔ قانون کے تحت ٹک ٹاک کو 19 جنوری 2025 تک امریکی اثاثے فروخت کرنے تھے، تاہم معاملہ طے نہ ہونے پر صدر ٹرمپ نے اس کی مدت میں توسیع کی۔

اب تک کسی کمپنی یا فرد کا نام حتمی طور پر سامنے نہیں آیا، تاہم رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے اوریکل کمپنی کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ امریکی اثاثوں کی قیمت 40 سے 45 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قیمت 14 ارب ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

چینی حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں نے امریکی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمت کو کافی کم قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے 16 ستمبر کو قانون کے نفاذ کی تاریخ 16 دسمبر تک ملتوی کر دی تھی تاکہ ٹک ٹاک کے امریکی اثاثوں کی فروخت کا معاملہ حتمی شکل اختیار کر سکے، اور اب ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے ساتھ یہ عمل مکمل ہو گیا ہے۔یہ اقدام ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی ملکیت میں تبدیلی کا حتمی مرحلہ ہے اور اس کے اثرات امریکی مارکیٹ اور سوشل میڈیا انڈسٹری پر جلد دیکھنے کو ملیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں