واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوابی ٹیرف نہ لگانے والے ممالک پر اضافی ٹیرف 90 روز کیلئےمعطل کردیا، تاہم چین پر 125 فیصد ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل کردیا گیا۔اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ درآمدات پر پہلے سے عائد 10 فیصد ڈیوٹی بدستور نافذالعمل رہے گی۔

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ 90 روز کی معطلی کا اطلاق گاڑیوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد ٹیرف پر نہیں ہوگا۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ چین پر 125 فیصد محصولات فوری طور پر نافذالعمل ہوں گے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ محصولات کے منصوبے میں 90 روز کا وقفہ دیاہے، اضافی محصولات کی 90 روز کی معطلی فوری نافذ ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ڈاؤ جونز میں 2 ہزار پوانٹس کی تیزی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ نیسڈک میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔خام تیل اور اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی آگئی، خام تیل قیمت میں 2 فیصد اضافہ ہوگیا۔ادھر سونے کی عالمی قیمت میں 3 فیصد جبکہ یورو کرنسی میں 0.4 فیصد اضافہ ہوگیا۔
خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد اضافہ ہوگیا، برینٹ خام تیل کی قیمت 65 ڈالر سے تجاوز کرگئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 62 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔ ادھر عالمی گیس قیمت میں 8 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی ایم ایم بی ٹی یو گیس 3 ڈالر 74 سینٹس میں فروخت ہورہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اضافی ٹیرف کے نفاذ سے چند گھنٹوں قبل نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی میں خطاب کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیرف پر دیگر ممالک ہمیں کال کر رہے ہیں اور ڈیل کیلئے مرے جا رہے ہیں۔
امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا جس کے ردِ عمل میں بیجنگ نے بھی منہ توڑ جواب دیا۔چینی وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ چین امریکی مصنوعات پر 84 فیصد محصولات عائد کرے گا۔

