امریکی حملوں سے ایٹمی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں، اگر ایران افزودگی بڑھائے گا تو دوبارہ حملے کا عندیہ
واشنگٹن (انادولو/نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے اس کی ایٹمی تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) یا کوئی دوسرا قابلِ اعتماد ادارہ ان تنصیبات کا معائنہ کرے، جس میں خود امریکا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ایران ملاقات چاہتا ہے۔” ان کا دعویٰ تھا کہ حال ہی میں امریکی حملوں میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا: “مجھے نہیں لگتا کہ ایران جلد دوبارہ ایٹمی پروگرام کی طرف جائے گا۔”
ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر خفیہ اداروں سے یہ اطلاعات ملیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی اس حد تک کر رہا ہے جو امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہو، تو وہ دوبارہ ایران پر بمباری پر غور کریں گے۔
22 جون کے امریکی حملے
واضح رہے کہ 22 جون کو امریکہ نے ایران کے فردو نیوکلیئر پلانٹ پر چھ بنکر بسٹر بم گرائے تھے جبکہ نطنز اور اصفہان میں دو دیگر تنصیبات کو آبدوزوں سے کروز میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی فوجی مہم کا حصہ تھے، جو کہ 13 جون کو اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔
12 روزہ جنگ اور جنگ بندی
ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی پروگرام پر جاری 12 روزہ جنگ صدر ٹرمپ کی جانب سے منگل کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد رک گئی ہے۔ اس جنگ میں ایران کے کئی اہم عسکری و ایٹمی ڈھانچے نشانہ بنے۔
پابندیاں ختم کرنے پر یوٹرن
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ایران پر سے پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہی تھی، تاہم ایران کے جانب سے آنے والے نفرت انگیز بیانات کے بعد یہ عمل روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر ایران ورلڈ آرڈر میں واپس نہیں آتا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ عالمی قوانین کی پاسداری کرے، ورنہ اسے عالمی تنہائی اور عسکری ردعمل کا سامنا ہوگا۔”

