ٹرمپ کو ابراہیم معاہدوں میں توسیع اور سعودی عرب سے شمولیت کی توقع

واشنگٹن(الجزیرہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ ابراہیم معاہدوں میں جلد توسیع ہوگی اور سعودی عرب بھی اس میں شامل ہو جائیگا۔ تاہم، غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی شدید عوامی ناراضی اس عمل میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

فاکس بزنس نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ سعودی عرب اس معاہدے میں شامل ہو، اور جب وہ شامل ہوگا تو سب شامل ہوں گے۔” انہوں نے ابراہیم معاہدوں کو “ایک معجزہ”اور “غیر معمولی پیش رفت”قرار دیا۔

یہ معاہدے اسرائیل اور امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے درمیان 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں طے پائے تھے۔

تاہم، بعد ازاں اسرائیل نے گزشتہ دو برسوں میں غزہ پر تباہ کن حملے کیے، مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائیاں تیز کیں، اور حالیہ مہینوں میں قطر سمیت چھ عرب ممالک پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں عرب لیگ اور او آئی سی کا ہنگامی اجلاس دوحہ میں بلایا گیا۔ اجلاس میں تقریباً 60 مسلم ممالک نے قطر سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کا “گریٹر اسرائیل” کا نظریہ اور خطے میں بالادستی کی کوششیں عرب ممالک میں سخت ناپسندیدگی کا باعث بنی ہیں۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، 81 فیصد سعودی شہریوں نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کی، جبکہ مراکش میں عوامی حمایت 31 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد رہ گئی ہے۔

سعودی حکومت بارہا واضح کر چکی ہے کہ وہ عرب امن منصوبے پر قائم ہے، جس کے مطابق اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی صرف فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ہی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں