(واشنگٹن / غزہ(الجزیرہ) – امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے غزہ میں مبینہ طور پر اسرائیلی تعاون کرنے والے گروہوں یا گینگز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی ختم کر دیں گے۔
ٹرمپ نے یہ بیان جمعرات کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر حماس نے غزہ میں لوگوں کو مارنا بند نہ کیا تو امریکہ کے پاس ’’اندر جا کر کارروائی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں‘‘ رہے گا۔ یہ بیان ان کے سابقہ مؤقف سے متضاد ہے، جب انہوں نے حماس کے گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کی تھی۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا”اگر حماس نے غزہ میں لوگوں کو مارنا جاری رکھا — جو معاہدے کا حصہ نہیں تھا — تو ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ہم اندر جا کر انہیں مار ڈالیں۔”
ٹرمپ کا یہ بیان ان کے پچھلے مؤقف سے ہٹ کر ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں انہوں نے حماس کی جانب سے غزہ میں گینگز کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا”انہوں نے بہت برے گینگز کو ختم کیا، بہت ہی برے لوگ، اور سچ کہوں تو، اس سے مجھے زیادہ فرق نہیں پڑا، یہ ٹھیک ہے۔”
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں غزہ کے اندر حماس اور مسلح قبیلوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن پر الزام ہے کہ وہ انسانی امداد لوٹنے اور اسرائیل کے ساتھ تعاون میں ملوث تھے۔
اتوار کے روز غزہ کی وزارتِ داخلہ نے ان افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جو خونریزی میں شریک نہیں تھے۔ تاہم اسی دوران مقامی فورسز کے مطابق اسرائیل سے منسلک ایک گروہ کے ارکان نے فلسطینی صحافی صالح الجفراوی کو قتل کر دیا۔
جون میں اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے غزہ کے اندر بعض گینگز کو اسلحہ فراہم کیا تاکہ حماس کی حکومت کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ ان گروہوں کے تعلقات بعض اطلاعات کے مطابق داعش سے بھی جوڑے گئے ہیں۔
اسی ہفتے کے آغاز میں مبینہ اسرائیلی ایجنٹوں کو پھانسی دینے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے حماس کی مذمت کی، اسے ’’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی‘‘ اور ’’قانون کی حکمرانی پر حملہ‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کے مطابق، حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا اور غزہ کی حکومت سے مکمل طور پر دستبردار ہونا پڑے گا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حماس نے ان شرائط کو باضابطہ طور پر قبول کیا ہے یا نہیں۔
اگرچہ ہفتے کو نافذ ہونے والی جنگ بندی عمومی طور پر برقرار رہی، لیکن اسرائیل نے متعدد بار اس کی خلاف ورزی کی، روزانہ فلسطینی شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے انہیں سرحد کے قریب آنے کا الزام دیا، حالانکہ وہ علاقے واضح طور پر نشان زد نہیں تھے۔
اسرائیلی حکام نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ غزہ کیلئے انسانی امداد محدود کر دیں گے جب تک حماس اپنے قبضے میں موجود تمام لاشیں واپس نہیں کرتی، اور ساتھ ہی انہوں نے رفح کراسنگ دوبارہ کھولنے سے انکار کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے چند روز قبل اس معاہدے کو ’’ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کا آغاز‘‘ قرار دیا تھا، لیکن ان کی تازہ دھمکیوں نے جنگ بندی کے مستقبل پر سنجیدہ شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔غزہ میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے، اور مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے متضاد بیانات سے نہ صرف خطے میں سفارتی غیر یقینی بڑھی ہے بلکہ جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

