برسلز (اے ایف پی)—یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے گوگل پر اپنی اشتہاری خدمات (AdTech) میں اجارہ داری کے ناجائز استعمال کے الزام میں 2.95 ارب یورو (3.47 ارب ڈالر) کا بھاری جرمانہ عائد کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یورپی کمیشن نے فیصلہ دیا کہ گوگل نے اپنی غالب پوزیشن کا غلط استعمال کرتے ہوئے پبلشرز، مشتہرین اور صارفین کو نقصان پہنچایا اور مسابقت کو محدود کیا، جو یورپی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔
یورپی یونین کی اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے بیان میں کہا”گوگل نے ایڈ ٹیک میں اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے غیر قانونی اقدامات کیے، جس سے مارکیٹ میں شفافیت اور مقابلے کو نقصان پہنچا۔ اب گوگل کو یہ رویہ ختم کرنا ہوگا۔”
کمیشن نے گوگل کو حکم دیا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اس بارے میں آگاہ کرے کہ وہ کس طرح اپنے “مفادات کے ٹکراؤ” کو ختم کرے گا۔ ریبیرا کے مطابق ممکنہ حل یہ ہے کہ کمپنی اپنے اشتہاری کاروبار کے کچھ حصے فروخت کرے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ یورپی یونین اگر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنائے گی تو امریکا جوابی اقدامات کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹ پالیسیوں پر یورپ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں گے۔
گوگل نے یورپی یونین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپیل کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے عالمی سربراہ برائے ریگولیٹری امور لی-این ملہولینڈ نے کہا”یہ بلاجواز جرمانہ ہے، اس سے ہزاروں یورپی کاروبار متاثر ہوں گے اور ان کے لیے پیسہ کمانا مشکل ہوجائے گا۔ ہماری اشتہاری خدمات مسابقتی ہیں اور صارفین کے لیے پہلے سے زیادہ متبادل موجود ہیں۔”
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یورپی یونین نے امریکی ٹیک کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے ہوں۔ اس سے قبل بھی گوگل، ایپل اور میٹا مختلف اینٹی ٹرسٹ مقدمات میں جرمانے بھگت چکے ہیں۔

