ٹرمپ کی ٹانگوں کی سوجن غیر سنگین رگوں کی بیماری کا نتیجہ قرار، وائٹ ہاؤس کی وضاحت

واشنگٹن(نامہ نگار + ایجنسیاں)وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹانگوں کی سوجن ایک غیر سنگین مگر دائمی رگوں کی بیماری “کرونک وینز اِن سفیشنسی” کا نتیجہ ہے، جس میں ٹانگوں کی رگیں خون کو مؤثر طریقے سے دل تک واپس نہیں پہنچا پاتیں۔ صدارتی معالج کے تفصیلی معائنے میں خون جمنے یا دل کی خرابی کی کوئی علامات نہیں پائی گئیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ٹانگوں کی سوجن کی شکایت پر کیے گئے طبی معائنے میں انہیں “کرونک وینز اِن سفیشنسی” نامی بیماری لاحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ حالت عام طور پر عمر رسیدہ افراد میں پائی جاتی ہے اور زیادہ تر غیر سنگین ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بیماری کے باوجود صدر کی دل کی کارکردگی، گردے اور خون کے دیگر تمام ٹیسٹ معمول کے مطابق ہیں اور کسی پیچیدہ یا خطرناک بیماری کے آثار نہیں ملے۔صدر کے ہاتھ پر نظر آنے والے نیل سے متعلق سوال پر کیرولین لیوٹ نے وضاحت کی کہ یہ نیل سافٹ ٹشوز کی سوزش سے مطابقت رکھتا ہے، جو کہ ہاتھ ملانے کی عادت اور روزانہ لی جانے والی اسپرین کے سبب ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال جنوری میں صدر کا عہدہ سنبھالا اور وہ 81 سالہ جو بائیڈن کی جگہ لے کر امریکہ کے سب سے معمر صدر بنے۔تمام طبی رپورٹس کی روشنی میں وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ صدر کی صحت اطمینان بخش ہے اور کوئی سنگین خطرہ لاحق نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں