ٹرمپ کے 20 نکات من و عن ہمارے نہیں ہیں: نائب وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظمؒ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ 20 نکات من و عن ہمارے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلوٹیلا میں شامل پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کے لیے یورپی ممالک سے مدد لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن محض بیانات سے ممکن نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوگا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ فلوٹیلا میں شامل پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کے لیے یورپی ممالک سے مدد حاصل کی گئی ہے۔فلسطین پر پاکستان کی پالیسی قائداعظمؒ کی پالیسی ہی ہے؛ ٹرمپ کے 20 نکات من و عن ہمارے نہیں۔

نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں قوم کی بھرپور نمائندگی کی اور کشمیر کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی امور پر بھی گفتگو کی گئی اور اسرائیل کی مذمت بھی کی گئی۔

اسحٰق ڈار نے بتایا کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور بعض عرب ممالک غزہ میں خونریزی روکنے میں ناکام نظر آئے۔ لہٰذا کچھ ممالک نے مل کر امریکا کو انگیج کرنے کی کوشش کی تاکہ معصوم جانوں کی حفاظت، بھوک سے ہونے والی اموات اور فلسطینی بے دخلی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں انہوں نے کہا کہ “غزہ انسانوں کے قبرستان کے ساتھ ساتھ عالمی ضمیر کا قبرستان بھی بن چکا ہے۔”

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات سے ایک روز قبل آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کی بھی غیر رسمی ملاقات ہوئی تھی جس میں سب نے مشترکہ طور پر اس صورتحال کی شرمندگی پر بات کی۔ صدر ٹرمپ نے اس پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزرائے خارجہ ان کی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر کسی قابلِ عمل حل پر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، جس پر پاکستان نے مشاورت کے بعد جواب دیا اور اپنے مسودے میں ضروری ترامیم شامل کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ 20 نکات “من و عن” پاکستان کے نہیں ہیں اور ہمارے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

“فلوٹیلا اور پاکستانی قیدی”
اسحٰق ڈار نے کہا کہ فلوٹیلا کے ضمن میں گرفتار کیے گئے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 45 میں سے تقریباً 22 کشتیوں کو روکا گیا اور گرفتار افراد میں بعض کی شناخت ہوئی ہے جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے نام کی غیر مصدقہ اطلاعات آتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک بااثر یورپی ملک سے رابطہ کیا ہے جو اسرائیل کے ساتھ رابطے کرکے ان افراد کی رہائی میں مدد کر رہا ہے۔

“پاکستان کی پالیسی”
نائب وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان کی ریاستی پالیسی دو ریاستی حل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے غزہ کے ساتھ فلسطینی ریاست کا حصہ ہوگا اور اسے اسرائیل کے ساتھ ضم نہیں کیا جائے گا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق یہی راستہ خطے میں پائیدار امن کا ضامن ہوگا۔

“امریکی مذاکرات اور مشترکہ بیان”
انہوں نے بتایا کہ آٹھ ممالک (اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، قطر اور مصر) کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں غزہ میں جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو، فلسطینی بے دخلی روکنے اور دیگر ضروری نکات پر کام کرنے کی راہ میں تعاون کا عزم ظاہر کیا۔ ان ممالک نے امریکا کے ساتھ شراکت داری کو اہم قرار دیا اور امن کے قیام میں مدد دینے کے لیے واضح اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔

“شمع جونیجو کا معاملہ”
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ جنرل اسمبلی کیلئے جاری کردہ لیٹر آف کریڈنس میں شمع جونیجو کا نام شامل نہیں تھا اور ان کی شمولیت غیر رسمی اور غیر ذمہ دارانہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ لیٹر ریکارڈ پر موجود ہے اور معاملات کا درست ریکارڈ موجود ہے۔تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے سوال اٹھایا کہ شمع جونیجو کی شمولیت جیسے اہم فیصلوں پر پارلیمنٹ سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے فیصلوں میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے۔

“پیپلزپارٹی واک آؤٹ اور احتجاجات”
مریم نواز کے معافی مانگنے سے انکار پر پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا بعد ازاں حکومتی ٹیم کے منانے پر واپس آگئی۔ اسی دوران اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری میں احتجاج کیا۔

اسحٰق ڈار نے زور دیا کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں اور بیانات سے زیادہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں قائداعظمؒ کے اصولوں پر قائم رہے گا اور فلسطینی عوام کی حقِ خود ارادیت اور دو ریاستی حل کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں