ٹورنٹو(اشرف خان لودھی سے)10 محرم الحرام 1447ھ کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں یومِ عاشور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ عزاداروں کی بڑی تعداد نے امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے جلوس ہائے عزا میں شرکت کی، جس میں مختلف قوموں، نسلوں اور مذاہب کے افراد شریک ہوئے۔

کوئنز پارک ڈاؤن ٹاؤن ٹورنٹو سےبرآمدہونیوالے عظیم الشان عاشورکے جلوس میں لاکھوں عزاداروں نے شرکت کی، جن میں خواتین، مرد، نوجوان، بچے اور بزرگ شامل تھے۔یوم عاشورکایہ جلوس سٹی سینٹرٹورنٹوپہنچ کراختتام پذیرہوا۔ جلوس کے راستے میں عزاداروں نے ماتم، نوحہ خوانی، سینہ زنی اور دعاؤں کے ذریعے امام حسینؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔

جلوس میں علم ، تابوت، ذوالجناح اورشبیہہ ذوالفقارنے کربلا کی یاد تازہ کردی، جبکہ راستوں میں مختلف زبانوں میں پرسوز نوحے اور مرثیے پڑھ کر فضا کو سوگوار بنا دیا۔جلوس میں شریک شیعہ، سنی، عیسائی، یہودی اور دیگر قوموں کے افراد نے امام حسینؑ کی تعلیمات کو امن، مزاحمت، اور حق کیلئےایک عالمی مشعل راہ قرار دیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا’’امام حسینؑ کا پیغام صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے ہے۔
انہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہو کر یہ سکھایا کہ حق پر ڈٹ جانے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔‘‘جلوس کے دوران ٹورنٹو پولیس، مقامی والنٹیئرز اور سیکیورٹی اہلکاروں نے سیکیورٹی، ٹریفک کنٹرول اور میڈیکل سہولیات کے انتظامات میں بھرپور کردار ادا کیا۔شہر کے مختلف مقامات پر سبیلیں، نذر و نیاز کے کیمپس اور میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے جہاں شرکاء کو پانی، مشروبات اور طبی امداد فراہم کی گئی۔
جلوس میں انگریزی، اردو، فارسی اور عربی میں تقاریر اور نوحہ خوانی کی گئی۔مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں نے بھی جلوس میں شرکت کی اور کربلا کے پیغام کو خراج تحسین پیش کیا۔یومِ عاشور کا یہ پُرامن اور باوقار جلوس نہ صرف عزاداری کا مظہر تھا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دینے کا ذریعہ بھی بنا کہ کربلا صرف ماتم نہیں بلکہ ظلم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے کا نام ہے۔ ٹورنٹو کی سرزمین پر گونجتے ’’یا حسینؑ‘‘کے نعروں نے ایک بار پھر امام عالی مقام کی یاد کو زندہ رکھا اور دنیا کو اتحاد، صبر اور حق کا راستہ دکھایا۔

