ٹورنٹو :سیاسی احتجاج ہر جماعت کا بنیادی حق ہے:سینئر صحافی رانا رضوان

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈا کے صدر چوہدری جاوید گجر نے اسلام آباد سے کینیڈا پہنچنے والے صحافی اور چیف ایڈیٹر رانا رضوان کا خیرمقدم کرتے ہوئےبتایا کہ رانا رضوان پاکستان میں دو تین اخبارات کے چیف ایڈیٹر ہیں جبکہ ایک ٹیلی ویژن چینل کے بیورو چیف بھی ہیں۔

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا رضوان نے کہا کہ وہ 2023ء کے بعد تین سال کے وقفے سے دوبارہ کینیڈا آئے ہیں، پچھلی مرتبہ بھی گجر صاحب اور ورک صاحب کی محبت انہیں کینیڈا لائی تھی جبکہ اس مرتبہ بھی دوستوں کی محبت نے انہیں دوبارہ کینیڈا آنے پر مجبور کیا۔

رانا رضوان نے بتایا کہ وہ پاکستان سے یورپ کے دورے پر گئے، وہاں سے امریکا اور پھر کینیڈا پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا آکر پرانے دوستوں سے دوبارہ ملاقات پر بہت خوشی ہوئی ہے۔

اشرف خان لودھی نے پاکستان میں بالخصوص اسلام آباد کی موجودہ سیاسی صورتحال اور احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے سوال کیا تو رانا رضوان نے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے، ہر سیاسی جماعت کو اپنی قیادت اور اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔

رانا رضوان نے کہا کہ حکومتوں کی اپنی پالیسیاں اور معاملات ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں دہشت گردی کے خطرے سے متعلق متعلقہ اداروں کی رپورٹس کے بعد سیکیورٹی بڑھائی گئی، دارالحکومت میں کنٹینرز لگائے گئے اور اہم شاہراہوں پر جانچ پڑتال میں اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے اور امن و امان برقرار رہے، اسی تناظر میں اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اشرف خان لودھی نے سوال کیا کہ کیا ارکان پارلیمنٹ کو روکنا، ان پر فائرنگ کرنا اور انہیں حراست میں لینا بھی سیاسی نظام کا حصہ بنتا جارہا ہے؟ اس پر رانا رضوان نے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برس سے اسلام آباد میں رہ رہے ہیں اور اسی عرصے سے صحافت بھی کررہے ہیں، سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں احتجاج کرتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کبھی پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کرتی ہے، کبھی پاکستان مسلم لیگ نون اور کبھی تحریک انصاف احتجاج کرتی ہے، اپوزیشن کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ جہاں تک فائرنگ کا تعلق ہے، ان کے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

رانا رضوان نے کہا کہ مثال کے طور پر عمران خان جیل میں ہیں تو عوام کو ان کی آزادی کیلئےآواز اٹھانے کا حق حاصل ہے، تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان برقرار رکھے اور شہریوں کو نقصان سے محفوظ رکھے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو احتجاج ضرور کرنا چاہیے لیکن احتجاج پرامن ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات سیاسی کارکن احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کرتے، املاک کو نقصان پہنچاتے اور آگ لگاتے ہیں۔

رانا رضوان نے کہا کہ شہری ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے شہر کی املاک کی حفاظت کریں، انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ احتجاج کے دوران درختوں کو جلانا، عمارتوں پر آتش گیر مواد پھینکنا اور سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانا نہیں ہونا چاہیے۔

اشرف خان لودھی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سیاسی نظام کی ایک اہم جماعت ہے اور جب پیپلز پارٹی نے ماضی میں تحریکیں چلائیں اور لانگ مارچ کیے تو اسے احتجاج سے نہیں روکا گیا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے سوال کیا کہ کیا خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک سے ملک کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں؟

اس پر رانا رضوان نے کہا کہ سب سے پہلے پاکستان ہے، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بعد میں آتے ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور پاکستانی ہونے کے بعد ہماری صوبائی شناخت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے پروگراموں اور گفتگو میں جہاں بھی موقع ملا یہی بات کرتے رہے ہیں کہ سب سے پہلے ہمیں پاکستانی بننا ہے، سب سے پہلے ہمیں محب وطن بننا ہے، اس کے بعد صوبائی شناخت آتی ہے۔

رانا رضوان نے کہا کہ ایک اچھے شہری کی حیثیت سے ہمیں امن کا ثبوت دینا چاہیے اور یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم امن پسند ہیں۔ آج پاکستان مسلم لیگ نون حکومت میں ہے، اس سے پہلے تحریک انصاف حکومت کا حصہ رہی ہے، سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں حکومت اور اپوزیشن دونوں میں رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہو، اسے پرامن احتجاج کرنا چاہیے۔ جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور کسی بھی قسم کی انتہا پسندانہ سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ سیاست بھی پرامن ہونی چاہیے اور احتجاج بھی پرامن ہونا چاہیے۔

رانا رضوان نے کہا کہ وہ 30 سال سے اسلام آباد میں رہتے ہیں، رپورٹنگ اور کوریج کرتے ہیں اور دارالحکومت کی تاریخ کے بڑے واقعات کور کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پرامن احتجاج ہوا، ایسے احتجاج کے دوران شیلنگ، فائرنگ یا لاٹھی چارج نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے، وہ ڈی چوک جائیں، زیرو پوائنٹ جائیں یا اسلام آباد میں کسی مناسب مقام پر بیٹھ کر احتجاج کریں، لیکن احتجاج پرامن ہونا چاہیے۔

رانا رضوان نے کینیڈا، امریکا اور یورپ میں اپنے سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی احتجاج ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بعض اوقات احتجاج کو مختلف رنگ دے دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، احتجاج پرامن ہونا چاہیے اور سیاسی کارکنوں کو اپنے حقوق کیلئےآواز اٹھاتے ہوئے امن و امان کا خیال رکھنا چاہیے۔گفتگو کے اختتام پر اشرف خان لودھی نے رانا رضوان کا شکریہ ادا کیا۔