برسلز(نمائندہ خصوصی)الیکٹرانک میوزک کے عالمی شہرت یافتہ فیسٹیول “ٹومارولینڈ” میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 35 سالہ کینیڈین خاتون پراسرار طور پر ہلاک ہوگئیں۔ یہ واقعہ بیلجیئم کے شہر اینٹورپ کے قریب بوم ٹاؤن میں فیسٹیول کے آغاز کے چند گھنٹے بعد پیش آیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، خاتون فیسٹیول کے دوران طبیعت ناساز ہونے پر فوری طور پر یونیورسٹی اسپتال اینٹورپ منتقل کی گئیں، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ اینٹورپ پراسیکیوٹر آفس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ موت کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
فیسٹیول کی ترجمان ڈیبی ولمسن نے میڈیا کو بتایا”خاتون کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی اور فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعدازاں ہمیں ان کے انتقال کی افسوسناک اطلاع ملی۔ ہم ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔”
یہ سانحہ ایسے وقت پیش آیا جب صرف دو دن قبل فیسٹیول کا مرکزی اسٹیج ایک خوفناک آتشزدگی کی نذر ہوگیا تھا۔ “آئس تھیم” پر مبنی یہ اسٹیج کئی مہینوں کی تیاری کے بعد تخلیق کیا گیا تھا۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلا دی تھی۔
اسٹیج کی تباہی کے باوجود منتظمین نے فیسٹیول کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ڈیویڈ گیٹا اور سویڈش ہاؤس مافیا جیسے عالمی فنکاروں کی پرفارمنس اسی اسٹیج پر ہونا تھی، تاہم متبادل انتظامات کے تحت فیسٹیول کا افتتاح معمولی تاخیر کے ساتھ کیا گیا۔منتظمین کے مطابق، رواں ہفتے کے اختتام اور آئندہ دنوں میں تقریباً چار لاکھ شائقین کی شرکت متوقع ہے اور فیسٹیول کو یادگار بنانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

