کولمبو(سپورٹس ڈیسک)ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان نے نیدرلینڈز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دے دی۔ قومی ٹیم نے 148 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کیا، فہیم اشرف کی جارحانہ بیٹنگ نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
کولمبو میں ٹاس جیت کر پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ نیدرلینڈز کی ٹیم 19.5 اوورز میں 147 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
نیدرلینڈز کی پہلی وکٹ 28 رنز پر گری جب میکس ڈووڈ 5 رنز بنا کر سلمان مرزا کا شکار بنے۔ دوسری وکٹ 31 رنز پر گری، محمد نواز نے مائیکل لیوٹ کو 24 رنز پر آؤٹ کیا۔ تیسری وکٹ 65 رنز پر گری جب ابرار احمد نے کولن اکرمین کو 20 رنز پر پویلین بھیجا۔ بعد ازاں ڈچ بیٹرز نے پارٹنرشپ قائم کی اور اسکور 105 تک پہنچایا تاہم محمد نواز نے شراکت ختم کر دی۔
پاکستان کی جانب سے سلمان مرزا نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نواز، ابرار احمد اور صائم ایوب نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔ شاہین آفریدی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ شاداب خان نے 4 اوورز میں 26 رنز دیے تاہم کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی اوپننگ جوڑی صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان نے پراعتماد آغاز فراہم کیا۔ صائم ایوب نے 13 گیندوں پر 24 رنز بنائے جن میں 4 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ کپتان سلمان علی آغا 12 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
صاحبزادہ فرحان نے 31 گیندوں پر 47 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی تاہم 98 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کی تیسری اور چوتھی وکٹ گر گئی۔ عثمان خان بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ ہوئے جبکہ بابر اعظم 15 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
محمد نواز (6) اور شاداب خان (8) بھی جلد آؤٹ ہوگئے جس سے میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا۔ تاہم فہیم اشرف نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 11 گیندوں پر ناقابلِ شکست 29 رنز بنائے اور ٹیم کو آخری اوور میں فتح دلادی۔پاکستان ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین آفریدی، سلمان مرزا اور ابرار احمد شامل تھے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 20 ٹیموں کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان گروپ اے میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا کے ساتھ شامل ہے۔ قومی ٹیم اپنا اگلا میچ 15 فروری کو کولمبو میں کھیلے گی۔یاد رہے کہ پاکستان نے 2009ء میں یونس خان کی قیادت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا جبکہ 2022ء میں بابر اعظم کی قیادت میں فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔

