پارلیمانی طرز حکومت کیا؟؟

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے“ جی ہاں! جمہوریت میں تو ایسا ہی ہوتا ہے وہ چاہے۔ امریکہ کے صدارتی نظام اور برطانیہ کے پارلیمان نظام کے ساتھ ساتھ فرانس اور جرمنی والی سوشل ڈیموکریسی ہو یا پھر روس اور چین کا اپنا اپنا نظام ہو، ان سب کو جمہوریت ہی کہا جاتا ہے کہ محدود یا عام انتخابات ہوں تو بھی افراد کی گنتی ہی فیصلہ کرتی ہے، برصغیر میں آزادی برطانیہ سے لی گئی اس لئے ان آزاد ہونے والے ممالک میں برطانوی پارلیمانی نظام جمہوریت ہی رائج ہوا، اگرچہ ہمارے ملک میں قریباً گیارہ سال صدارتی نظام کا بھی تجربہ ہوا، لیکن یہاں قبول نہ کیا گیا کہ اس صدارتی طرز حکومت کی بنیاد ہی بنیادی جمہوریت کے نام پر محدود اور بالواسطہ تھی۔ ایوب خان نے مارشل لاء اپنے دیئے گئے آئین کے تحت ختم کیا تھا اور اس آئین میں صدر تو ایک طرف پارلیمانی نمائندے بھی محدود جمہوری نظام کے تحت چنے جاتے تھے۔ عام رائے دہندگی محدود کر دی گئی اور بی ڈی (بنیادی جمہوریت) ممبروں کو حق رائے دہی دیا گیا۔بالآخر یہ نظام 1970ء میں ختم ہوااور انتخابی عمل پارلیمانی طرز پر براہ راست رائے دہندگی سے ہوا، ایوب خان کے 1962ء والے آئین کے تحت ہی 1965ء میں صدارتی الیکشن ہوا۔ ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے لایا گیا، پھر ہم نے دیکھا کہ کس طرح ایس ایچ او حضرات نے بی ڈی ممبران کو ایک رات قبل تھانوں میں جمع کیا اور صبح کو اپنی نگرانی میں لے جا کر ووٹ کاسٹ کرائے۔ اس کے باوجود ایوب خان کے پسینے چھوٹے اور اگر اس وقت کے مشرقی پاکستان سے حضرت بھاشانی ثابت قدم رہتے تو شاید یہ بھی ایک تاریخ بنتی کہ ایوب خان اپنے ہی بنائے آئین کے تحت بالواسطہ انتخابی عمل میں ہار گئے ہوتے۔

بات پارلیمانی طرز حکومت کی کہ اس کو زیادہ بہتر جانا جاتا ہے کہ پارلیمانی نمائندے براہ راست عوامی رائے سے چنے جاتے اور اکثریت والے ہی کو حق حکمرانی حاصل ہوتا ہے۔ اس نظام کے تحت پارلیمان میں پارلیمانی نمائندے اپنے حلقے کے رائے دہندگان کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے حوالے سے اپنے طرز عمل کو استوار کرتے ہیں، منتخب نمائندے پارلیمان میں اپنی اپنی اہلیت کے مطابق عوامی بہبود کے کام کرتے ہیں۔ اس طرز جمہوریت میں پارلیمنٹ (صوبائی+قومی+سینیٹ) ایک ایسا فورم ہے جہاں رائے دہندگان کے حق میں سوال و جواب اور بحث بھی ہوتی ہے، بنیادی طور پر اس فورم کو عوامی بہبودہی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، وقفہ سوالات اہم ہوتا ہے کہ اراکین اپنے اپنے علاقائی مسائل کے علاوہ صوبائی اور قومی امور کے حوالے سے بھی سوال پوچھتے ہیں۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں صدارتی نظام بلواسطہ نمائندگی اور ایک ذات میں اختیارات کے جمع ہونے کاباعث ناکام ہوا کہ محترم ایوب خان نے اسے آمریت کے طور پر چلایا اور بالآخرایک بڑی تحریک کے نتیجے میں ان کو اقتدارچھوڑنا پڑا، اس میں بھی انہوں نے زبردست ڈنڈی ماری۔ ایوبی آئین کے مطابق ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا تھا تو اسے سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کیا جانا تھا، مگر خان صاحب مرحوم نے اس پر بھی عمل نہ کیا اور اقتدار اس وقت کے آرمی چیف جنرل یحییٰ کے سپرد کر دیا، انہوں نے مارشل لاء لگا کر ملک کو سیدھا کرنے کے لئے اپنی ذات کے لئے اقتدار کی کوشش کی اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے، یہ ماضی کی تاریخ ہے جو ہم سب کو یاد ہے۔

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ پاکستانی جانتے ہیں کہ اس نظام جمہوریت کو بھی چلنے نہیں دیا گیا اور یحییٰ خان کے بعد بھی موجودہ پاکستان میں جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور جمہوری بساط لپیٹ کر رکھ دی، ہر دو نے آمرانہ اختیارات کے تحت اقتدار نمٹایا اور یوں اس پارلیمانی طرز عمل کو سالوں پیچھے چھوڑ دیا، یہ پاکستانی قوم کے نصیب کہ بار بار کے تعطل کی وجہ سے یہاں جمہوری مزاج ہی نہیں بن سکا، کسی بھی انتخابی عمل پر اعتماد نہیں ہوا اور ہر بار دھاندلی کا الزام لگا اور تحریکیں بھی چلیں، ایسے ہی تعطل اور اختیارات کے ارتکاز کی خواہش نے بنیادی جمہوریت (بلدیاتی نظام) کے نظام کو پنپنے نہیں دیا اور بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں ہو پائے، اس (بلدیاتی) نظام کو جمہوریت کی تجربہ گاہ کہا جاتا ہے لیکن یہ پنپنے نہیں پایا وجہ ترقیاتی پروگراموں کے فنڈز کا لالچ ہے اگر بلدیاتی نظام مضبوط ہو تو پھر علاقائی ترقیاتی کام یہ بلدیاتی نمائندے کراتے اور اراکین صوبائی و قومی اسمبلی صوبائی یا وفاقی امور تک محدود ہوتے ہیں، اس لئے منتخب حکومتوں نے بھی بلدیاتی نظام کو پس پشت ڈالے رکھا حالانکہ یہ ادارے خود برسراقتدار جماعت ہی کے کام کرتے اور کراتے ہیں کہ ان کے لئے فنڈز بھی مختص کئے جاتے ہیں اور یہ فنڈز ہی وجہ تنازعہ ہیں، میرے پیارے ملک کا اگر مارشل لاء / آمریت مسئلہ ہے تو براہ راست منتخب اراکین کے اپنے اور علاقائی مفادات بھی مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ قواعد و قانون کے مطابق توازن تو ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں کہ شملہ اونچا رکھنا بھی ہوتا ہے اور ترقیاتی کام اور مقامی مسائل ہی رائے دہندگان کو منتخب حضرات کے دروازے تک لے کر آتے ہیں۔

ہمارے منتخب نمائندوں کی زبان جمہوریت، جمہوریت مانگتے اور کہتے نہیں تھکتی لیکن خود ان کا اپنا طرز عمل یہ ہے کہ ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دیتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پارلیمان میں عوامی بہبود کے مسائل پر بحث نہیں ہو پاتی۔ ایوان شوروہنگامے کا شکار رہتا اور قانون سازی یکطرفہ رخ اختیار کرلیتی ہے اور مسودات قانون پر نہ تو بنظرغائر غور ہوتا اور نہ ہی مناسب اور بہتر بحث ہوتی ہے کہ زیر بحث قانون یا مسئلہ کی اچھائی یا خرابی سامنے آئے اور ایک دوسرے کے تعاون سے اچھائی کو فروغ حاصل ہوجائے۔ میں نے اپنے دور پارلیمانی رپورٹنگ میں ایوب خان کی دوستانہ حزب اختلاف، جنرل ضیاء کی غیر جماعتی اسمبلی اور مسلم لیگ (ن) و پیپلزپارٹی کے دور حکومت کی اسمبلیوں کو بھی دیکھا اور کارروائی کی رپورٹنگ کی۔ ان ایام میں بھی اکثریت والے ہی اپنی سی کر لیتے تھے، لیکن سردار بہادر خان،خواجہ صفدر اور مخدوم زادہ حسن محمود جیسی اپوزیشن کے علاوہ تابش الوری، حاجی سیف الرحمن، رانا اکرام ربانی اور چودھری پرویز الٰہی کا دور بھی تھا، ان میں دوستانہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اپوزیشن بھی تھی، رانا اکرام ربانی کا دور تو زیادہ ہی سخت تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی بالمقابل تھیں اور رانا اکرام ربانی گیارہ اراکین کے ساتھ ڈٹ کر مقابل رہے وہ اتنی زیادہ تیاری کے ساتھ آتے کہ بھاری بھرکم اکثریت والی مسلم لیگ (ن) بھی بجٹ کو منظور ہے،منظور ہے سے منظور نہ کرا پاتی تھی۔ اپوزیشن کی طرف سے بھرپور مخالفت اور مثبت تر تنقید اپنا وقت لیتی تھی، ایسے ہی کیفیت پیپلزپارٹی کے دور میں چودھری پرویز الٰہی کی تھی۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سابقہ آمریت اور جمہوریت کے ادوار آج کے دور سے بہتر تھے۔ دکھ ہے کہ اب 2018ء کے بعد سے اب تک ایوان اوہ، اوہ، اوہ، اوہ ہو کر رہ گئے، ہنگامہ آرائی طرز عمل ٹھہرا اور سنجیدہ گفتگو عنقا ہو گئی، حتیٰ کہ غیر مناسب گفتگو عام ہے عوام بددل ہو رہے ہیں اور ان اراکین کو پارلیمانی طرز عمل بھی اختیار کرنا ہوگا کہ اسی میں ملک کی بہتری اور مسائل کا حل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں