پاکستانی سیاسی محرومی سے فلسطینی بچوں تک: نئی استعماریت کا بے رحم چہرہ

جب پاکستان میں 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا، تو بظاہر یہ ایک متنازع مگر جمہوری انتقالِ اقتدار کی امید پیدا ہوئی تھی۔ لیکن جو کچھ بعد میں ہوا، وہ پاکستان کے عوام کی ایک بے مثل سیاسی محرومی کا آغاز تھا، جس میں ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کو صرف انتخابی شکست کے ذریعے نہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت، قانونی ہتھکنڈوں، اور سیاسی انجینئرنگ کے ایک منظم نظام کے ذریعے اقتدار میں آنے سے روک دیا گیا۔

طویل سیاسی بحران کے بعد عام انتخابات کا انعقاد آئینی طور پر مقررہ مدت کے بہت بعد کیا گیا، جس نے بڑی جماعتوں کے سیاستدانوں سمیت قومی اداروں کی آئین پسندی پر بنیادی سوالات اٹھا دیے۔ معتبر تجزیہ کاروں کے مطابق اس میں اسٹیبلشمنٹ، انتظامیہ، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی آئینی حدود کو نظر انداز کرنے میں خاموشی اختیار کی یا اس کا حصہ بن گئے۔

ماضی کی روایت کے برخلاف، اس بار الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ آفیسرز کے طور پر عدالتی افسران کی جگہ سول بیوروکریٹس کو مقرر کیا۔ لاہور ہائی کورزت نے ای سی پی کے خلاف حکم دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ای سی پی کے فیصلے کو بحال کردیا۔ اسی دوران، جنوری 2024 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے پی ٹی آئی سے اس کا انتخابی نشان ’بلّا‘ چھین لیا گیا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ پارٹی نے اس فیصلے کو ایک سنگین رکاوٹ قرار دیا، خاص طور پر اس لیے کہ پاکستان میں شرحِ خواندگی کم ہے اور لوگ زیادہ تر نشانات پر ووٹ دیتے ہیں۔ انتخابی مرحلے میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت بھی مشکلات کا سامنا رہا۔

ان تمام رکاوٹوں کے باوجود، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے پھر بھی قومی اسمبلی کی 266 نشستوں میں سے تقریباً 93 پر کامیابی حاصل کی—جو کسی بھی ایک جماعت سے زیادہ تھیں—جبکہ پنجاب میں 115 اور خیبر پختونخوا میں 42 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے باوجود انہیں اقتدار سے محروم رکھا گیا، جب پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اور دیگر اتحادی جماعتوں نے مل کر حکومت بنا لی۔ یہ انجینیئرنگ اسٹیبلشمنٹ نے انجام دی۔ سابق وزیرِاعظم عمران خان نے نتائج کو “عوامی مینڈیٹ کی سب سے بڑی چوری” قرار دیا۔ سول سوسائٹی کے انتخابی نگرانی کرنے والے ادارے ‘پتن’ نے ایک مفصل اور شواہد پر مبنی رپورٹ جاری کی جس میں فارم 47 میں کی گئی دھاندلی اور ڈیٹا میں رد و بدل کو بے نقاب کیا گیا۔

انتخابی دن بھی متنازعہ رہا: ملک گیر موبائل فون سروس بند کی گئی، پرتشدد واقعات ہوئے، اور بعد میں راولپنڈی کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر، کمشنر راولپنڈی، نے دباؤ میں آ کر انتخابی نتائج میں رد و بدل کا اعتراف کیا۔ اس وقت معلوم نہیں کہ اعتراف کرنے والے اس کمشنر کے ساتھ بعد میں کیا ہوا۔ ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے جنہوں نے فوج اور انتخابی حکام کو اس دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مگر انتظامیہ نے طاقت کے استعمال سے حالات پر قابو پایا۔

نتائج کی تیاری میں سب سے واضح جعلسازی فارم 45 (پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ) اور فارم 47 (حلقے کا مجموعی نتیجہ) کے درمیان منظم تضادات میں سامنے آئے۔ سول سوسائٹی اور پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ اصل پولنگ نتائج کو بدلا گیا۔ پی ٹی آئی کے جاری کردہ وائٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا کہ فارم 45 میں موجود برتریاں سرکاری سطح پر فارم 47 میں شکست میں بدلی گئیں۔ مبصرین کے مطابق جو جمع تفریق ایک پرائمری جماعت کا طالبعلم کر سکتا ہے، وہ ضلعی الیکشن کمشنر کے افسران نہ کر سکے،جس سے عددی جعلسازی کا الزام تقویت پکڑ گیا۔

اعداد و شمار سے ہٹ کر پی ٹی آئی کو قانونی موشگافیوں کے حربوں سے مخصوص نشستوں پر اپنے حق سے بھی محروم کیا گیا۔ 2024 کے انتخابات کے فوری بعد، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 22، پنجاب اسمبلی کی 27، اور خیبر پختونخوا و سندھ کی اضافی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی سے وابستہ ان امیدواروں کو دینے سے انکار کر دیا جنہوں نے سنی اتحاد کونسل (SIC) کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا۔ الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کے حق میں قانونی تقاضوں کی تکمیل میں مبینہ کمی کا حوالہ دیا حالانکہ کہ پی ٹی آئی کو الیکشن سمبل سے خود ای سی پی ہی نے محروم کر کے اُسے ایک جماعت کو طور پر الیکشن لڑنے سے روکا تھا جبکہ پارٹی پر پابندی بھی نہیں لگی تھی۔

یہ فیصلہ 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ کے ایک 8-5 کے اکثریتی فیصلے کے ذریعے کالعدم قرار دیا گیا، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی-سنی اتحاد کونسل اتحاد کو ان نشستوں کا اہل قرار دیا اور الیکشن کمیشن کو 15 دن میں امیدواروں کی فہرستیں قبول کرنے اور نشستیں الاٹ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی آئینی حیثیت کے اعتراف کے طور پر دیکھا گیا اور اسے اس سیاسی مارجنلائزیشن کی جزوی تلافی سمجھا گیا جس کا سامنا پارٹی کو بیوروکریٹک ہتھکنڈوں کے ذریعے کرنا پڑا۔

تاہم یہ عدالتی ریلیف بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 27 اور 28 جون 2025 کو سپریم کورٹ کے ایک بڑے بینچ نے، جو کہ 7-3 کی اکثریت سے تشکیل پایا، الیکشن کمیشن، مسلم لیگ (ن)، اور پیپلز پارٹی کی نظرِثانی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے جولائی 2024 کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بحال کیا جس کے تحت سنی اتحاد کونسل/پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کا کوئی حق دار قرار نہیں دیا گیا تھا۔ یہ نشستیں بعد میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو ایک منفرد نظیر کے طور پر تقسیم کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی (336 اراکین) میں اسٹیبلشمنٹ کی حامی پارٹیوں کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر پی ٹی آئی قیادت نے شدید ردِعمل ظاہر کیا اور اسے آئینی اصولوں کی سنگین غلط تعبیر اور اس سیاسی انجینئرنگ کا تسلسل قرار دیا جو الیکشن کے آغاز سے ہی پارٹی کے خلاف جاری تھی۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اس فیصلے نے نہ صرف اس کی پارلیمانی حیثیت کو ختم کیا بلکہ اس کے کروڑوں ووٹرز کی نمائندگی کو ادارہ جاتی طور پر کالعدم کر دیا۔

انتخابات کے بعد گرفتاریوں اور سزاؤں کا سلسلہ پھر سے تیز ہوا، خاص طور پر 9 مئی 2023 کے مظاہروں کے بعد۔ جولائی 2025 کے آخر میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کی 108 اہم شخصیات—جن میں عمر ایوب خان، زرتاج گل، اور شبلی فراز شامل تھے—کو دس سال قید کی سزائیں سنائیں۔ ان سزاؤں کے نتیجے میں پاکستانی قانون کے تحت فوری نااہلی لازم آتی ہے۔ ان اقدامات نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی موجودگی کو مزید کمزور کر دیا۔

اس انسٹیٹیوشنل انحطاط کی جڑ 26ویں آئینی ترمیم میں ہے، جس کے ذریعے عدلیہ میں تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کے ماتحت کر دیا گیا—ایک ایسا اقدام جسے اکثر تجزیہ کار انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت قرار دیتے ہیں۔ اس ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو کمزور کر کے اسے انتظامی کنٹرول کا آلہ کار بنا دیا، بجائے اس کے کہ وہ انتظامیہ پر آئینی چیک رکھے۔

آئین کی خلاف ورزی، انتخابی نشان کی محرومی، ووٹوں کے فارم میں رد و بدل، مخصوص نشستوں کی دوبارہ تقسیم، دھاندلی سے بھرپور گنتی، بڑے پیمانے پر نااہلیاں، اور آئینی اداروں کے ڈھانچے کی تبدیلی—یہ سب اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو ایک نئے انداز کے قانونی اور ادارہ جاتی محرومی کے ماڈل کے ذریعے نکالا گیا، جو پاکستان کی جمہوری تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔

2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی پارلیمانی عدم موجودگی محض سیاسی شکست نہیں، بلکہ ایک شعوری، تہہ در تہہ محرومی کی مہم تھی جو قانونی، انتظامی، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے ذرائع کے ذریعے انجام دی گئی۔ جب ہم ان سیٹوں کے نقصان، قانونی فیصلوں کی واپسی، اور انتظامی چالوں کا جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ایک کبھی غالب رہنے والی سیاسی جماعت کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جمہوری اصولوں کو بدل کر سیاسی میدان سے باہر نکالا گیا۔

پاکستان کے عوام کی یہ سیاسی محرومی صرف ریاستی آئینی ناکامی یا شفاف انتخابی عمل کے فقدان کی مرہون منت نہیں، بلکہ اس میں عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی بھی شامل ہے—جیسا کہ یورپی یونین، عالمی مبصرین، اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے، جنہوں نے پاکستان کی جمہوری ساخت کے انہدام کو دیکھا اور خاموش رہے۔

ایسے وقت میں جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر خود کو عالمی استعمار کے سیاسی کھیل میں مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا، اور اپنے پرانے سرد جنگ کے دور کے کردار—بطور مغربی مفادات کے محافظ—کو دوبارہ اپنایا، تو دنیا کی جمہوریت کی محافظ قوتیں وہ اخلاقی وضاحت اور فوری ردِعمل نہ دکھا سکیں جو وقت کا تقاضا تھا۔ جس طرح پہلے فیلڈ مارشل کو ترجیح دی گئی تھی آج بھی دوسرے فیلڈ مارشل کو ترجیح دی جائے گی۔

جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ دراصل عوامی نمائندگی اور سیاسی خودمختاری کے آفاقی حق کا زوال ہے۔ جمہوریت کو جیوپولیٹیکل مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ اس نئی ’ریئل پولیٹک‘ میں فوجی آمریت یا تو “جمہوریت” کا لیبل پہن کر خود کو پیش کرتی ہے یا “ہائبرڈ نظام” کے وجود کو کھلے عام تسلیم کر کے جواب دہی سے بچتی ہے اور اس کی وکالت کرنے والے شرم بھی محسوس نہیں کرتے ہیں۔

یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی جمہوری نظام کے لیے بھی ایک خطرناک نظیر ہے، جہاں عوام کے حقوق اور آوازوں کے مقابلے میں سٹریٹجک مفادات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ جیو سٹریٹجی جس میں کبھی سرد جنگ کے مفادات کار فرما تھے اب امریکہ اپنی گرتی ہوئی عالمی استعماریت کو بچانے کا ظالمانہ کھیل کھیل رہا ہے جس میں غزہ کے بچوں کی آوازوں سے زیادہ وہاں بننے والا “ریویئریا” (riveria) اہم ہے۔

اس منظرنامے میں، سلیمان خان اور قاسم خان کا امریکہ کا دورہ ان کے والد کے لیے کوئی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گا، کیونکہ یہ مسئلہ کسی لابنگ یا انسانی حقوق کے زاویے سے نہیں دیکھا جائے گا بلکہ سفاک جیو سٹریٹیجی کے زاویے سے دیکھا جائے گا—اور انہیں یہ تلخ حقیقت اب سمجھ لینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں