نیو یارک (نمائندہ خصوصی)پاکستانی نثراد امریکی فیڈرل ڈسڑکٹ جج لورین علی خان کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کو وفاقی گرانٹس بل پر یو ٹرن لینے پر مجبور کر دیا ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد روزانہ متعدد ایگزیکٹو آڈر جاری کر رہے ہیں ۔ دو روز پہلے صدر ٹرمپ کی طرف سے وفاقی امدادی بل کو فوری روکنے کا حکم جاری کیا جس سے ملکی اور غیر ملکی وفاقی امداد سے خیراتی اداروں ، صحت عامہ ، اور قرضوں کی گرانٹس کو منجمد کرنے کا حکم تھا ۔
ٹرمپ کے اس حکم اور پالیسی سے خیراتی اداروں اور دیگر غیر ملکی امداد ، صحت کے شعبے میں کافی الجھنوں اور پریشانی نے جنم لیا ۔ جیسے ڈسٹرکٹ جج لورین علی خان نے حکم دیا کہ وفاقی گرانٹس روکنے سے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور فلاحی اداروں اور مستحق افراد کی گرانٹس مت روکیں لہٰذا اس پالیسی سے منجمد کئے جانے والے فنڈ کو عارضی طور پر روک دیا جائے ، اور مزید سماعت جو فروری 3 مقرر کی گئی ہے تک وفاقی گرانٹس کو منجمد کرنے پر عمل روک کر اسے جاری رکھا جائے ۔جسے صدر ٹرمپ نے جاری رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں ۔
واضع رہے جج لورین علی خان پاکستانی نثراد ہیں اور انکے والد ڈاکٹر محمود علی خان دل کے امراض کے ماہر اور والدہ لنڈا علی خان پیشے کے اعتبار سے ایک نرس ہیں۔ جج لورین علی خان کو سابق صدر بائیڈن دور میں وفاقی جج تعینات کیا گیا تھا ۔

