پاکستانی پارلیمانی وفد کی E10 ممالک کو بریفنگ — بھارتی جارحیت، علاقائی خطرات اور اقوام متحدہ کے کردار پر زور

نیویارک(بیورورپورٹ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے، جس کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری نے کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب غیر مستقل اراکین (E10) کے مستقل مندوبین کو ایک اہم بریفنگ دی۔

یہ ملاقات بھارت کی حالیہ جارحیت کے بعد جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی، اور پاکستان کی جاری سفارتی مہم کا حصہ تھی۔

بلاول بھٹو نے بریفنگ میں زور دیا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت نے بغیر کسی شفاف تحقیق یا قابلِ تصدیق شواہد کے پاکستان پر الزامات عائد کیے جو کہ نہ صرف بے بنیاد بلکہ علاقائی امن کیلئے خطرناک بھی ہیں۔

انہوں نے کہا“بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات، جن میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا شامل ہے ، نہ صرف بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کیلئے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔”

پاکستانی وفد میں شامل وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی جناب مصدق ملک نے E10 ممالک کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ماحولیاتی اور انسانی نتائج سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان میں پانی کی شدید قلت، خوراک کا بحران اور ماحولیاتی تباہی جیسے سنگین اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، جن کا خمیازہ 24 کروڑ سے زائد افراد کو بھگتنا پڑے گا۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ”پاکستان کا ردعمل مکمل طور پر نپا تُلا، ذمہ دارانہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حقِ دفاع کے دائرے میں تھا۔”انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب بھی تحمل، سفارت کاری اور جامع مذاکرات کے ذریعے تمام حل طلب مسائل، خصوصاً مسئلہ جموں و کشمیر، کا پرامن حل چاہتا ہے۔

پاکستانی وفد نے سلامتی کونسل کے منتخب اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف کشیدگی کے بعد تنازعات کے انتظام پر اکتفا نہ کریں، بلکہ تنازع سے پہلے اس کا دیرپا اور منصفانہ حل تلاش کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔

عالمی ردعمل
E10 ممالک کے نمائندوں نے پاکستان کی جانب سے امن، تحمل اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ”جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کا منشور اور پرامن سفارت کاری ہی واحد قابلِ قبول راستے ہیں۔”انہوں نے متنبہ کیا کہ مزید کشیدگی کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس وقت دنیا کو تنازعات کو روکنے کیلئے فعال، پیشگی سفارتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں