پاکستانی کوہ پیما سعد منور نے شمالی رخ سے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نئی تاریخ رقم کر دی

اسلام آباد(سپورٹس ڈیسک) پاکستان کیلئےایک اور فخر کا لمحہ اس وقت آیا جب معروف پاکستانی کوہ پیما سعد منور نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ (8,848 میٹر) کو شمالی جانب سے سر کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی کوہ پیما نے ایورسٹ کی بلند چوٹی کو تبت کے راستے شمالی سمت سے کامیابی کے ساتھ سر کیا۔

سعد منور کی اس عظیم کامیابی کی تصدیق ان کے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ سے کی گئی، جہاں بتایا گیا کہ انہوں نے چوٹی پر پہنچ کر سبز ہلالی پرچم لہرایا اور اس وقت وہ کیمپ 3 پر محفوظ طریقے سے موجود ہیں۔

یہ کارنامہ اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ایورسٹ کا شمالی راستہ اگرچہ نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ برفانی تودوں کے خطرات سے کم دوچار ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ ایک انتہائی چیلنجنگ اور تکنیکی راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی رخ سے ایورسٹ سر کرنے کے پرمٹ چینی حکام نے صرف رواں برس جنوری سے دوبارہ جاری کرنا شروع کیے تھے۔

سعد منور کی اس مہم میں وہ عالمی کوہ پیماؤں کے ساتھ شامل تھے، جنہیں معروف مہماتی ادارہ امیجن نیپال ایکسپیڈیشن نے سہولت فراہم کی۔ ادارے کے سربراہ مِنگما جی نے اس کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سعد نے کوہ پیمائی کا آغاز حال ہی میں کیا ہے، مگر وہ اس سے قبل آکونکاگوا، ایلبرس، کلیمنجارو اور لوبوچے پیک (نیپال) جیسی چوٹیوں کو بھی سر کر چکے ہیں۔

پاکستانی کوہ پیماؤں کیلئے رواں ماہ کامیابیوں سے بھرپور رہا۔ ساجد علی سدپارہ نے 11 مئی کو بغیر آکسیجن اور بغیر کسی پورٹر کی مدد کے دنیا کی ساتویں بلند ترین چوٹی دھولاگیری (8,167 میٹر) سر کی، جبکہ سرباز خان نے 18 مئی کو دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کنچن جنگا (8,586 میٹر) کو بھی بغیر اضافی آکسیجن سر کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری نے سعد منور کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پاکستان کے کوہ پیماؤں کیلئےایک تاریخی دن ہے اور سعد کی کامیابی نوجوان نسل کو نئی بلندیوں کے خواب دیکھنے کی ترغیب دے گی۔‘‘

اپنا تبصرہ لکھیں