اسلام آباد(رائٹرز+عرب نیوز+ائیروٹائم)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) نے تقریباً پانچ سال بعد ہفتے کے روز اسلام آباد سے مانچسٹر کیلئے پرواز شروع کر دی ہے، جب کہ برطانیہ کی جانب سے عائد پابندی ختم کی گئی ہے۔ یہ اقدام برطانیہ کے دیگر شہروں کیلئےپروازوں کی بحالی کی راہ ہموار کریگا۔
پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ محمد فیصل کے مطابق، PIA کی پرواز برطانیہ کیلئےدوبارہ روانہ ہوئی ہے، اس سے اسلام آباد سے مانچسٹر کے نئے سروس کا آغاز ہوا ہے۔یہ بحالی اُس پابندی کے بعد ممکن ہوئی ہے جو جعلی پائلٹ لائسنسز کے انکشاف کے بعد برطانیہ، یورپی یونین اور امریکا نے PIA پر عائد کی تھی۔
22 مئی 2020 کو کراچی میں PIA کی پرواز PK-8303 کے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حادثے کے وقت پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات نظرانداز کی تھیں اور جہاز کو خطرناک زاویے سے اتارا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان کے شہری ہوابازی نے انکشاف کیا کہ ملک کے تقریباً ایک تہائی فعال پائلٹ ایسے تھے جن کے لائسنس مشکوک تھے کیونکہ انہوں نے امتحان کسی اور کے ذریعے دیئے تھے۔
محمد فیصل کا کہنا ہے کہ اب نئے نظام کے تحت پائلٹ لائسنسنگ، بیرونی ماہرین کے ذریعے نگرانی اور برطانوی و یورپی حفاظتی ضابطوں کے تحت جانچ پڑتال کا عمل نافذ کیا گیا ہے۔PIA نے(maintenance) اور سیفٹی مینجمنٹ کے عمل کو ازسرنو منظم کیا ہے اور پرواز عملہ (flight crew) کو برطانیہ میں دوبارہ ٹیسٹ اور سرٹیفائی کیا گیا ہے۔
آئندہ منصوبوں کے تحت PIA اگلے ماہ اسلام آباد سے برمنگھم کیلئےسروس شروع کریگی اور سال کے آغاز پر لندن (ہیٹھرو) کیلئے بھی پرواز متوقع ہے۔ محمد فیصل نے بتایا کہ کراچی اور لاہور سے بھی جلد پروازیں بحال ہونگی، جبکہ گلاسگو اور کارڈف کیلئےخدمات پر بھی غور ہو رہا ہے۔
متوقع ہے کہ اس بحالی سے برطانیہ کے بازار کیلئے پاکستان کی سبزیاں اور پھل زیادہ مقدار میں برآمد ہونگے، اس کے علاوہ دوطرفہ تجارتی معاہدے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔PIA نے گزشتہ برس دو دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ منافع حاصل کیا ہے، اور نجکاری کی تیاری کے مرحلے میں ہے۔ محمد فیصل نے کہا ’’یہ وقت ہے کہ ہم اس ادارے کو دوبارہ ترقی کی راہ پر لائیں‘‘۔

