پاکستان اور آسیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار :عمران احمد صدیقی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں آسیان ڈے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری (ایشیا پیسیفک)عمران احمد صدیقی نے کہا کہ پاکستان آسیان ممالک کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئےسنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ’’ویژن ایسٹ ایشیا‘‘ پالیسی نے سیاسی اعتماد، اقتصادی روابط اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نو آسیان ممالک میں سفارتی موجودگی کے ذریعے پاکستان نے اس شراکت کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔

ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان تعلقات محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہیں۔ 1993 میں پاکستان کو سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ ملا جبکہ 1999 میں آسیان-پاکستان کوآپریشن فنڈ قائم کیا گیا، جسے اب عملی منصوبوں کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ’’پریکٹیکل ایریاز آف کوآپریشن 2024-2028‘‘ کے تحت 31 منصوبے طے کیے گئے ہیں جن میں سے 30 فیصد پر صرف پہلے سال میں عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔

سال 2024 کی نمایاں کامیابیوں میں 21 آسیان صحافیوں کی میزبانی، لاہور اور کراچی میں دوسرا آسیان-پاکستان بزنس کانفرنس، روبوٹکس پر تحقیقی منصوبہ اور مٹیریل سائنسز پر چوتھی آسیان-پاکستان کانفرنس شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 47 آسیان سفارت کاروں کو فارن سروس اکیڈمی میں تربیت فراہم کی، آسیان ریجنل فورم کی سرگرمیوں میں فعال شرکت کی اور سلامتی کے شعبے میں مشترکہ اقدامات تجویز کیے۔ اس کے علاوہ پاکستان سالانہ آسیان طلبہ کو طب، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل میں وظائف فراہم کرتا ہے۔

ثقافتی سفارت کاری کے تحت ’’گندھارا ٹو دی ورلڈ‘‘ سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا اور قیمتی نوادرات کی نقل ’’فاسٹنگ بدھ‘‘ بطور تحفہ مختلف آسیان ممالک کو پیش کی گئی۔ مستقبل میں انسانی ہمدردی کے تحت بارودی سرنگوں کی صفائی، موسمیاتی لچک، آبی سلامتی اور آفات سے نمٹنے جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

سیاحت، ڈیجیٹل ترقی، پائیدار خوراک، صحت، صنفی مساوات اور غربت کے خاتمے کے شعبوں میں بھی شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسیان مل کر تقریباً ایک ارب آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے شراکت داری کو مکمل ڈائیلاگ پارٹنرشپ تک لے جانا وقت کی ضرورت ہے۔

خطاب کے اختتام پر عمران احمد صدیقی نے کہا کہ پاکستان آسیان کے ساتھ مستقبل کی تشکیل میں فعال شراکت دار بننے کیلئے تیار ہے اور سیکریٹری جنرل کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ جاری کامیابیوں اور امکانات کو قریب سے دیکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں