پاکستان اور چین کا افغانستان میں دہشت گردوں کیخلاف ’واضح اور قابل تصدیق‘ اقدامات کا مطالبہ

بیجنگ (نمائندہ خصوصی، مشترکہ اعلامیہ)پاکستان اور چین نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے واضح، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو اور علاقائی و عالمی سلامتی کو لاحق خطرات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

یہ بات پیر کو بیجنگ میں پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے چینی ہم منصب نے 4 جنوری کو چین پاکستان وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معاشی تعاون، انسداد دہشت گردی، دفاع اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں سرگرم تمام دہشت گرد تنظیمیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اس لیے ان کے خاتمے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر ہیں۔ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی یا عدم استحکام کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور چین عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر کابل کو ایک جامع سیاسی ڈھانچہ اپنانے، معتدل پالیسیاں اختیار کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے کی ترغیب دیں گے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر و آپریشن کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔ چین نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے گئے جامع اقدامات اور ملک میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کے انتظامات کو سراہا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔