پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مونس الٰہی کو انٹرپول سے بڑا ریلیف مل گیا

انٹرپول نے دو سال سے جاری تحقیقات بند کر دیں، ریڈ نوٹس ختم — وکیل کے مطابق “کلین چٹ”مل گئی

بارسلونا(وقائع نگارخصوصی)بارسلونا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما مونس الٰہی کو بین الاقوامی سطح پر اہم قانونی ریلیف مل گیا ہے، انٹرپول نے ان کے خلاف گزشتہ دو برس سے جاری تحقیقات باضابطہ طور پر بند کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ اب کسی نوٹس یا ڈفیوژن میں مطلوب نہیں رہے۔

قابلِ اعتماد انٹرپول ذرائع نے بتایا کہ بارسلونا میں مقیم مونس الٰہی کے خلاف پاکستان کی جانب سے دیے گئے شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم انٹرپول کو مبینہ غلط کاریوں کے کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جو کسی بین الاقوامی کارروائی کا جواز بن سکیں۔

پاکستان نے انٹرپول سے مونس الٰہی کی حوالگی کی درخواست کر رکھی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ قتل، فراڈ، منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر مطلوب ہیں۔ پاکستانی حکام 2023 سے مستقل مطالبہ کر رہے تھے کہ مونس الٰہی کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کر کے انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

مونس الٰہی کو 2023 میں گجرات میں قتل کے ایک مقدمے کا بھی سامنا تھا جس کے اندراج کے وقت وہ لندن میں مقیم تھے۔ وہ ستمبر 2023 میں لندن سے بارسلونا منتقل ہوئے اور گزشتہ تقریباً تین برس سے بیرونِ ملک زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مونس الٰہی کے وکیل نے انٹرپول کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ انصاف کی فتح ہے، مونس الٰہی کو کلین چٹ مل گئی ہے۔‘‘ ان کے مطابق پاکستانی حکام نے سیاسی بنیادوں پر کیسز بنا کر مونس الٰہی کو نشانہ بنایا، مگر وہ ’’اصولوں پر قائم رہے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔

انٹرپول کی جانب سے تحقیقات کا بند ہونا نہ صرف مونس الٰہی کے قانونی موقف کے لیے اہم پیش رفت ہے بلکہ پاکستان میں جاری سیاسی کشمکش کے تناظر میں بھی اسے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مونس الٰہی کے وطن واپسی کے امکانات اور سیاسی مستقبل پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم حتمی صورتِ حال کا انحصار پاکستان میں جاری عدالتی مقدمات اور سیاسی ماحول پر رہے گا۔