پاکستان ایک بار پھر ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے لے کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک دہشت گردی کی نئی لہر نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ واقعہ، جس میں دہشت گردوں نے پختونخوا کے ایک کیڈٹ کالج کے اندر 650 افراد بشمول 525 کیڈٹس کو یرغمال بنانے کی کوشش کی، اور اسلام آباد کی ضلعی عدالتی کمپلیکس کے باہر خودکش حملہ، جس میں 12 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، پاکستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ دشمن اب بھی متحرک ہے۔ یہ واقعات کسی اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور خوف و انتشار پھیلانے کی منظم کوشش ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی نے وانا کیڈٹ کالج کے ممکنہ سانحے کو روک دیا۔ ان کی جرات ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی فوج، پولیس اور خفیہ ادارے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ تاہم، ان حملوں کی شدت اور تسلسل اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
پاکستان اس جنگ کا پہلے بھی سامنا کر چکا ہے اور قربانی و عزم کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ 2008 سے 2016 تک کے برس قوم کے لیے نہایت کٹھن ثابت ہوئے۔ آرمی پبلک اسکول جیسے سانحات اور مساجد، بازاروں اور اداروں پر حملے آج بھی یاد ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردّالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس توڑے گئے اور ملک میں امن بحال ہوا۔ مگر اب ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر خصوصاً خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اب دارالحکومت میں بھی خطرناک انداز میں ابھر رہی ہے۔
خفیہ رپورٹس اور حکومتی ذرائع کے مطابق کئی کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی پراکسیز کی مالی اور لوجسٹک مدد کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ دشمن واضح پیغام دے رہے ہیں کہ ان کا ہدف پاکستان کا امن، عوام کا اعتماد اور قومی استحکام ہے۔
یہ مسئلہ محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ قومی عزم کا امتحان ہے۔ ہمارے سپاہی بڑی بہادری سے دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری اب پوری قوم پر عائد ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کو ذاتی اختلافات بھلا کر ملک کو مقدم رکھنا ہوگا۔ تقسیم، الزام تراشی اور اقتدار کی سیاست کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ جب دشمن متحد ہیں تو ہم بٹے ہوئے نہیں رہ سکتے۔ قومی سلامتی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے — حکومت، اپوزیشن، فوج، عدلیہ، میڈیا اور ہر شہری کی۔
علاقائی صورتِ حال بھی پیچیدہ ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہوں کی سرگرمیاں وہاں بدستور تشویش ناک ہیں۔ بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف عناصر کی خفیہ مدد کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کو اس حقیقت کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے — 80 ہزار سے زائد جانیں قربان ہوئیں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ اب دنیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو اور دہشت گردی کے ان نئے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔
دہشت گردی تقسیم اور مایوسی سے پروان چڑھتی ہے۔ اسے شکست دینے کے لیے پاکستان کو ان بنیادوں کو مضبوط کرنا ہوگا جنہیں دہشت گرد کمزور کرنا چاہتے ہیں — اتحاد، انصاف اور امید۔ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی اصلاحات، بارڈر مینجمنٹ، خفیہ تعاون اور انتہا پسندی کے خاتمے کے پروگراموں پر عمل تیز کرنا ہوگا۔ میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی تاکہ نئی نسل امن، برداشت اور قومی فخر کے ساتھ پروان چڑھے۔
پاکستان بارہا آزمائشوں سے گزرا ہے مگر کبھی جھکا نہیں۔ شہیدوں کا خون ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم متحد رہیں اور ثابت قدمی دکھائیں۔ موجودہ دہشت گردی صرف ہماری سیکیورٹی پر نہیں بلکہ ہماری شناخت، اتحاد اور مستقبل پر حملہ ہے۔ آئیے ہم ایک قوم بن کر سیاست، ذاتی مفاد اور اختلافات سے اوپر اٹھیں اور ایمان، اتحاد اور نظم کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع کریں۔ دشمن ہمیں تقسیم کرنا چاہتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب پاکستان متحد ہوتا ہے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔

