پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد / قاہرہ / تہران / ریاض(ایجنسیاں) —ایران پر جاری اسرائیلی فضائی و میزائل حملوں کے خلاف اسلامی دنیا نے متفقہ طور پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب، عراق، قطر، کویت، مصر، اردن، الجزائر، بحرین سمیت 21 مسلم ممالک نے اسرائیل کی حالیہ جارحیت کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور خطے کے امن کیخلاف کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

یہ اعلامیہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب اسرائیل نے 13 جون سے ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں پر مسلسل بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں ہسپتال، میڈیا مراکز، شہری علاقوں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔

اعلامیے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
مسلم ممالک نے متفقہ طور پر ایران پر اسرائیلی حملوں کو یکسر مسترد کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ “ایرانی سرزمین پر اسرائیل کی جارحانہ کارروائیاں نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئےسنگین خطرہ بھی ہیں۔”

تمام فریقین سے مطالبہ کیا گیا کہ خطے میں کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جائے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کیے جائیں۔اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ ایران کے خلاف اپنی جارحانہ فوجی کارروائیاں فی الفور بند کرے۔اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں اور دیگر مہلک ہتھیاروں سےپاک کیا جائے۔

جوہری پھیلاؤ کے خلاف موقف
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ”مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اس صورت میں ممکن ہے جب خطے کے تمام ممالک ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا حصہ بنیں، اور اسرائیل سمیت کوئی ریاست مہلک ہتھیاروں کے ذخیرے نہ رکھے۔”

پاکستان کا مؤقف
پاکستان کی وزارت خارجہ نے اعلامیے کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ”ہم ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کیلئےہر فورم پر سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور ان کا بین الاقوامی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں