پاکستان فٹبال فیڈریشن: کے پی کے 2 اراکین کے انتخاب کا مسئلہ دوبارہ کھٹائی میں

لاہور: (سپورٹس ڈیسک)پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی ایگزیکٹو کمیٹی کیلئے خیبر پختونخواہ کے 2 اراکین کے انتخاب کا مسئلہ ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا اور اجلاس غیر معینہ مدت کیلئےملتوی کر دیا گیا۔

گزشتہ مئی میں ہونے والے انتخابات کے دوران کے پی کے سے دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ ٹائی ہوا تھا، جسے کانگریس کی اگلی میٹنگ میں حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لاہور کے مقامی ہوٹل میں ہونیوالے اجلاس میں کانگریس کے 12 ارکان نے شرکت کی جبکہ ڈپارٹمنٹس، کے پی کے اور بلوچستان کے کانگریس ممبران غیر حاضر رہے۔ اجلاس میں فیفا اور اے ایف سی کے آبزور نمائندگان زوم کے ذریعے شریک ہوئے۔

پی ایف ایف ڈسپلنری اینڈ ایتھکس کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ غیر حاضر کانگریس ممبران کا اصل مقصد ووٹر لسٹ میں تبدیلی کروانا تھا، تاہم خیبر پختونخوا کے انتخابات پرانی ووٹر لسٹ کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔ اجلاس میں سندھ کے کانگریس ممبران کی غیر قانونی حراست اور اس کے پسِ پردہ عوامل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ان پر تاحیات پابندی کا عندیہ دیا گیا۔

پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے سندھ سے تعلق رکھنے والے ممبران کی غیر قانونی حراست کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال کمیونٹی ایسے اقدامات کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس معاملے کی باضابطہ انکوائری کرائی جائے گی۔ فیفا کے نمائندگان بھی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

کانگریس ممبر محمد صدیق نے اجلاس میں درخواست کی کہ جاوید میمن، کانگریس ممبر پی ایف ایف، کو تمام کھیلوں کی سرگرمیوں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی نمائندگی سے معطل کیا جا چکا ہے، اور کے پی ایگزیکٹو کمیٹی کے انتخابات کی ووٹر لسٹ سے ان کا نام خارج کیا جائے۔

کانگریس ممبر کفایت اللہ نے سیاسی مداخلت، غیر قانونی حراست اور مسلسل ہراساں کیے جانے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔