پاکستان کا آئین محض قانونی دستاویز نہیں بلکہ طاقت، ریاستی اداروں اور عوامی نمائندگی کے درمیان ایک حساس توازن کا مظہر ہے۔ گزشتہ برسوں میں اس آئین میں کی جانے والی ترامیم نے ملکی سیاست کے رخ کو کئی بار بدل دیا۔
اب ایک بار پھر، 26ویں اور مجوزہ 27ویں آئینی ترامیم نے پارلیمنٹ، عدلیہ، صوبوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کی کشمکش کو ازسرِنو زندہ کر دیا ہے۔ یہ دونوں ترامیم بظاہر اصلاحات” کے نام پر متعارف کرائی جا رہی ہیں، مگر ان کے باطن میں طاقت کے مرکز کے تعین کی ایک گہری جنگ جاری ہے۔
2024ء میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں وفاقی حکومت نے 26ویں آئینی ترمیم منظور کروا کر عدلیہ کے تقرری نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں۔چیف جسٹس اور ججز کی تعیناتی کے اختیار میں حکومت و پارلیمنٹ کا کردار بڑھایا گیا، جسے حکومت نے “پارلیمانی بالادستی قرار دیا۔
حکومت کے نزدیک یہ ترمیم عدلیہ میں شفافیت، احتساب اور جمہوری نمائندگی کے فروغ کے لیے ضروری تھی۔ اس کا مقصد، ان کے بقول، اختیارات کے توازن کو بحال کرنا” اور عدلیہ کو “بند کمرے کے فیصلوں” سے نکال کر عوامی نگرانی میں لانا تھا۔دوسری جانب، قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
وکلا تنظیموں کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں حکومتی اثر و رسوخ بڑھنے سے“Separation of Powers” کا بنیادی اصول مجروح ہو گا۔ یہ ترمیم رات گئے ہنگامی اجلاسوں میں منظور کی گئی، جس سے اس کے سیاسی مقاصد پر مزید سوالات اٹھے۔ اب حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے عنوان سے ایک اور جامع تبدیلی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ ترمیم عدلیہ سے بڑھ کر ملک کے وفاقی ڈھانچے، وسائل کی تقسیم، انتخابی نظام، اور عسکری نظم تک پھیلتی دکھائی دیتی ہے۔
NFC ایوارڈ میں
صوبائی حصے کی آئینی ضمانت میں ترمیم، جس سے وفاق کو وسائل کی تقسیم میں زیادہ اختیار مل جائے گا۔
2. آئینی عدالت کے قیام کی تجویز، جو آئین کی تشریح کے مقدمات میں سپریم کورٹ سے الگ ادارہ ہو گی۔
3. تعلیم، آبادی اور ماحولیات جیسے شعبے دوبارہ وفاق کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز۔
4. آرٹیکل 243 (فوجی کمانڈ) میں وضاحتیں، تاکہ عسکری و سول حدود واضح کی جا سکیں۔
5. چیف الیکشن کمشنر اور دیگر اراکین کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی، جس سے وفاقی حکومت کا کردار مزید بڑھے گا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے مطابق، یہ ترمیم “وفاقی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی توازن” کی ضامن ہو گی۔ان کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد کچھ انتظامی ابہام اور ناہمواریاں پیدا ہوئیں جنہیں درست کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق، حکومت نے پیپلز پارٹی، MQM اور JUI-F سمیت دیگر اتحادی جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ دو تہائی اکثریت حاصل کی جا سکے۔مجوزہ ترمیم پر اپوزیشن اور بعض اتحادی جماعتوں نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ صوبائی خودمختاری کے کسی بھی پہلو میں کمی قبول نہیں کی جا سکتی۔بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ وفاقی توازن کو چھیڑنے والی کوئی بھی ترمیم قومی مفاہمت کے بغیر نہیں لائی جا سکتی۔
قانونی ماہرین کے مطابق، آئینی عدالت کے قیام اور NFC ایوارڈ میں ردوبدل سے 18ویں ترمیم کے روحانی ڈھانچے پر ضرب پڑ سکتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ ترمیم مرکزیت کو بڑھائے گی اور صوبائی اختیارات محدود کر دے گی، جو جمہوری وفاقی اصولوں کے منافی ہے۔
اگر حکومت واقعی 27ویں ترمیم کے ذریعے آئینی ڈھانچے میں ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتی ہے تو اسے یہ عمل مشاورت، شفافیت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ مکمل کرنا ہو گا۔ لیکن اگر یہ ترمیم سیاسی مفادات کے تابع یا عجلت میں منظور کی گئی تو یہ سیاسی انتشار اور آئینی تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
26ویں ترمیم نے عدلیہ کے اختیارات کو چُھوا تھا، جبکہ 27ویں ترمیم وفاقی اور صوبائی توازن کی بنیادوں تک رسائی رکھتی ہے۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ صرف ایک ترمیم نہیں بلکہ پاکستان کے وفاقی نظام کی ازسرِنو تشکیل کا آغاز ہے۔
پاکستان کا آئین ایک زندہ معاہدہ ہے جسے طاقت کی کشمکش، سیاسی ارتقاء اور عوامی توقعات بار بار نئے معنی دیتے ہیں۔ اگر 27ویں ترمیم کا مقصد واقعی ادارہ جاتی توازن، شفافیت اور قومی یکجہتی کا فروغ ہے تو یہ ایک مثبت سنگ میل ہو سکتا ہے۔ مگر اگر اس کے پس منظر میں محض اختیارات کے ارتکاز یا سیاسی بالادستی کا محرک ہے، تو یہ مستقبل کے آئینی بحرانوں کی پیش خیمہ بن سکتی ہے۔جمہوری استحکام کا راز ترمیمات میں نہیں، ترمیم کے طریقۂ کار اور نیت میں پوشیدہ ہے

