پاکستان میں سب سستا ہے موجاں کرو موجاں

وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور مریم نواز شریف کی پنجاب حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ مہنگائی ختم ہو چکی ہے ہر چیز سستی ہو چکی ہے۔مہنگائی نام کی کوئی چیز اب پاکستان میں وجود نہیں رکھتی،سمجھ نہیں آتی ان حکمرانوں کو پاکستان کی کون سی شکل دکھائی جاتی ہے، کون سا نرخنامہ دکھایا جاتا ہے۔ایک زمانے میں،بلکہ ایوب خان کے زمانے میں یہ سنا تھا کہ ایوب خان کو ایک خصوصی اخبار چھاپ کے پیش کیا جاتا تھا تاکہ ”سب اچھا ہے۔ہرا ہرا ہے“کی تصویر ان کو دکھائی جا سکے۔ آج کل ”ہرا ہرا“ حکمرانوں کو دکھانے کا یہ کام ہمارے ”ٹک ٹاکر، سینئر اخبار نویس، سینئر اینکرز“ بہت اچھی طرح انجام دے رہے ہیں۔لہٰذا کوئی خصوصی اخبار چھاپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت نے گزشتہ ماہ نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔ یکم جولائی سے نیا سال شروع ہوا تو اُمید تھی کہ حکومت کے دعوؤں کے مطابق جب سب ٹیکس فری ہے اور اس دفعہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا لہٰذا کسی چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو گا، لیکن ایک چیز ایسی ہے، جس کی قیمت حکومت ہر 15دن بعد تبدیل کر دیتی ہے اور وہ ہے پٹرول اور ڈیزل۔ حکومت نے یکم جون، 30جون، 5جولائی،15جولائی، 31جولائی کو تیل کی قیمتیں بڑھائیں نتیجہ یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ دو ماہ میں 18روپے 52پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 29روپے 71 پیسے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ پٹرول جو 15جون کو 253 روپے 63پیسے فی لیٹر اور ڈیزل جو 254روپے 64پیسے تھا اب 272روپے 15پیسے اور ڈیزل 284روپے 35پیسے کا ہو چکا ہے۔یہ وہ اضافہ ہے، جس نے اس ملک میں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ہر مافیا کو قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھانے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔گڈز اور مسافر ٹرانسپورٹروں نے فوری طور پر کرایوں میں 10سے 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے اور ابھی تو یہ ابتداء ہے۔ حکومت شاید کچھ عرصے بعد عوامی دباؤ سے تنگ آ کر، پریشان ہو کر قیمتوں میں کمی کر دے لیکن کرائے جو بڑھ چکے ہیں وہ کم نہیں ہوں گے اور کرائے صرف ٹرانسپورٹرز نے نہیں بڑھائے خود حکومت نے بھی بڑھائے ہیں اور اس کا مظاہرہ ریلوے نے کیا ہے اور کمال کیا ہے۔ ریلوے نے 18جون کو مسافر ٹرین کے کرایوں میں تین فیصد اور مال بردار ٹرینوں کے کرائے میں چار فیصد اضافہ کیا، جس کے بعد دوبارہ پٹرول کی قیمت بڑھی تو چار جولائی کو کرایوں میں دو فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ اب جب 15جولائی کو پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے تو ایک بار پھر 18جولائی کو ٹرین کے کرایوں میں دو فی صد اضافہ کر دیا گیا ہے۔اس طرح گزشتہ30،32دِنوں میں مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ حکومت نے کیا ہے اور عوام کی جیبوں پر براہ راست بوجھ ڈالا ہے۔ پاکستان میں اِس وقت حکومت کو ہائی سپیڈ ڈیزل 177روپے 24پیسے اور پٹرول165روپے 30پیسے ایکس ریفائنری قیمت پر ملتا ہے۔ یعنی آپ خود اندازہ لگا لیں کہ حکومت کو پٹرول کی قیمت میں 103روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 107 روپے خالص منافع ہے۔یہ وہ پیسے ہیں کہ اگر حکومت چاہے تو پٹرول کی قیمت کم کر سکتی ہے،لیکن لیوی کے نام پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔اِس وقت پٹرول پر لیوی 75 روپے 72پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی 95روپے 74پیسے بتائی جاتی ہے۔یہ قیمتوں کا وہ گورکھ دھندا ہے جو عام آدمی بیچارہ سمجھ نہیں پاتا اس کو یہی لگتا ہے کہ شاید بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے۔ایران اسرائیل جنگ نے پٹرول کی قیمت آسمان پر پہنچا دی ہے۔اس کو نہیں پتہ کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں آج بھی آئل 68ڈالر فی بیرل ہی ہے۔ وہاں کچھ نہیں بگڑا صرف ہمارے حکمرانوں کو قیمتیں بڑھانے کا ایک بہانہ ملا ہے کہ جنگ کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ گورنمنٹ اگر چاہے تو پیٹرول کو اس کی اصل قیمت 167روپے51پیسے اور ڈیزل کو اس کی اصل قیمت 177 روپے89پیسے پر فی لیٹر فروخت کر سکتی ہے، لیکن پھر حکومت کے اللے تلے کیسے پورے ہوں گے۔ان کے لئے نئی گاڑیاں کہاں سے آئیں گی۔غریب مزدور کے لئے کم از کم تنخواہ 35 ہزار روپے مقرر کرنے والوں کو کچھ قیمتیں بتائے دیتے ہیں ان قیمتوں میں صرف گروسری خریدنے کے بعد گھر کیسے چل سکتا ہے یہ حکومتی بزرجمہر ہی بتا سکتے ہیں۔ ایک بڑے سٹور پر جہاں چیزیں تھوک اور پرچون دونوں میں فروخت ہوتی ہیں کی قیمتوں کے مطابق سفید چنا 375، کالے چنے300، سرخ لوبیا 250، دال چنا 350، دال مسور 285، دال مسور دھلی ہوئی 335دال مونگ 385، دال مونگ دھلی ہوئی 439،دال ماش 450،دال ماش دھلی 509، سفید لوبیا 350روپے، دال ملکہ مسور 275روپے میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ کوکنگ آئیل 545سے 555روپے لیٹر ہے۔ پانچ کلو ”خالص آٹا 823“روپے میں ملتا ہے۔ایک کلو گڑ کی قیمت280روپے ہے،باسمتی چاول 400روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ چائے کے ایک معروف برانڈ کا 900 گرام کا ڈبہ 1512 روپے اور ایک اس سے بھی زیادہ معروف برانڈ کا چائے کا 860گرام کا ڈبہ 2100روپے میں بکتا ہے، جبکہ دودھ جو ہر گھر کی، ہر بچے کی اور ہر بڑے کی ضرورت ہے اس کا ڈیڑھ لیٹر کا پیکٹ 505روپے کا ہو چکا ہے۔ ابھی گھی اور کوکنگ آئل کے مالکان کی حکومت سے جاری چپقلش کے نتیجے میں ان کی قیمتیں بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ گائے کا گوشت جس کی قیمت تین سال پہلے 600روپے کلو تھی،آج 1200 روپے کلو ہو چکا ہے جبکہ بکرے کا گوشت 2400 روپے کلو میں دستیاب ہے۔ چینی جس کا ایکس مل ریٹ حکومت نے 165اور پرچون ریٹ 172روپے مقرر کیا ہے اِس وقت بازار میں 200 روپے اور اس سے زائد میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ بیرون ملک سے درآمد ہونے والی چینی کے بارے چینی کے کاروبار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمد ہونے والی چینی حکومت کو 245 روپے فی کلو میں پڑ سکتی ہے اب وہ 245 روپے کلو والی چینی عوام کو کتنے میں ملے گی یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ دوسری طرف لوگوں نے مختلف یوٹیلٹی بل بھی ادا کرنے ہوتے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں موجودہ حکومت (پی ڈی ایم ون اور ٹو) دونوں کے دور میں 200فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ گیس کی قیمت میں اضافہ کچھ لوگ ایک ہزار فیصد کچھ اس سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ یہ کیسے ادا ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں