پاکستان میں 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاریوں کی روزانہ آمدنی 32 ارب روپےہے

لاہور(سپیشل رپورٹ)یہ واقعی حیران کن ہے کیونکہ 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاریوں کی روزانہ آمدنی 32 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔یہ اعداد و شمار درست ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان میں گداگری کے منظم اور غیر منظم نیٹ ورکس پر روشنی ڈالتے ہیں بلکہ اس سے معیشت کے کئی دوسرے پہلو بھی بے نقاب ہوتے ہیں۔

یہ تشویشناک ہے کہ بھکاریوں کی روزانہ کی آمدنی ملک کے کئی بڑے صنعتی شعبوں کی مجموعی یومیہ آمدنی سے زیادہ ہوچکی ہے۔ یہ اعداد و شمار پالیسی سازوں اور ماہرین معیشت کیلئےایک لمحہ فکریہ ہیں کیونکہ اس سے معاشرتی اور اقتصادی نظام میں موجود خامیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہ معاملہ حکومتی سطح پر سخت کارروائی اور تحقیق کا متقاضی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس رقم کا کتنا حصہ حقیقی ضرورت مندوں کے پاس جا رہا ہے اور کتنا جرائم پیشہ عناصر یا منظم گروہوں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔ اگر حکومت اس نظام کو ریگولیٹ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو شاید یہ رقم فلاحی منصوبوں میں بہتر طریقے سے استعمال کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری جوگولڈمائن کہلاتی ہے وہ کتناسرمایہ لارہی ہے پاکستان میں وہ بھی سالانہ 3کروڑڈالرکماتی ہے لیکن اس کے برعکس گداگروں کے گروہ اتنے منظم ہیں وہ اس سے 40گنازیادہ کمارہے ہیں ۔ہمارے سبزپاسپورٹ کوپہلے ہی پوری دنیامیں مشکوک نظروں سے دیکھاجاتاہے۔

ایف آئی اے جوکام کررہی ہے وہ بہت اچھاہے انہیں چاہئے بڑے پیمانے پرآپریشن کریں ان لوگوں کوگرفتارکریں جوہماری نوجوانوں کودوسرے ملکوں میں بھجواکربھیک منگواتے ہیں ۔بحیثیت پاکستانی ہمیں ان نیٹ ورکس کی حوصلہ شکنی کرناہوگی اوران کوبھیک دیناروکناہوگی اوراپنے بچوں کے مستقبل کی طرف خصوصی توجہ دیناہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں