پاکستان نے خوست میں بمباری کی، 10 افراد ہلاک:افغان طالبان کا الزام

کابل(الجزیرہ)افغان طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے 24 نومبر کی شب صوبہ خوست کے ضلع گربزو میں ایک شہری کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں نو بچّے اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے۔

ان کے بقول، اسی دوران کنڑ اور پکتیکا کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فضائی کارروائیوں میں چار شہری زخمی بھی ہوئے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ حملے افغانستان کی خودمختاری اور فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہیں۔

طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی اس قسم کی جارحیت سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور افغانستان اپنی فضائی و زمینی حدود اور قوم کے دفاع کو اپنا “شرعی حق” سمجھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مناسب وقت پر “مناسب جواب” دیا جائے گا۔ دوسری جانب، پاکستان کی فوج (آئی ایس پی آر) نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان “اعلانیہ حملے” کرتا ہے اور عام شہری یا سویلین کو نشانہ نہیں بناتا۔

مذکورہ بمباری کی خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پیر کو پاکستان میں پشاور کے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی آپریشنز تیز کیے گئے تھے۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ فضائی حملے اسی آپریشن کا حصہ تھیں۔