پاکستان نے صومالی لینڈ کو تسلیم اور وہاں فلسطینیوں کی بے دخلی کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کر دیا

نیویارک( اقوامِ متحدہ)پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی کسی بھی جبری بے دخلی یا نقل مکانی کے ممکنہ منصوبے کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب محمد عثمان اقبال جدون نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنا انتہائی تشویشناک ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ اس خطے کا ذکر ماضی میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری جلاوطنی کے ممکنہ مقام کے طور پر کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے سوڈان، صومالیہ اور صومالی لینڈ کے حکام سے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے امکانات پر بات چیت کی تھی۔ ان کے مطابق فلسطینی زمین پر دہائیوں سے جاری قبضہ اور بے دخلی مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ رہی ہے اور اب یہی غیر مستحکم رویہ افریقہ تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

محمد عثمان اقبال جدون نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی سے متعلق کسی بھی تجویز یا منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی ایک سابق قرارداد میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ کسی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، جبکہ نقل مکانی یا دوبارہ آبادکاری کی وکالت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور منصفانہ و پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مسئلہ فلسطین کا واحد حل 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستانی مندوب نے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس حیثیت کو بدلنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم کے کئی رکن ممالک اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کر چکے ہیں۔

دوسری جانب عرب لیگ کے 22 رکن ممالک نے بھی اسرائیل کے اقدام کو مسترد کر دیا۔ اقوامِ متحدہ میں عرب لیگ کے سفیر ماجد عبدالفتاح عبدالعزیز نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جبری منتقلی یا شمالی صومالیہ کی بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

صومالیہ کے مستقل مندوب ابوکر داہر عثمان نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک الجزائر، گیانا، سیرالیون اور صومالیہ نے فلسطینی آبادی کو غزہ سے صومالیہ کے شمال مغربی خطے میں منتقل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

اس کے برعکس امریکا نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے حق کا دفاع کیا، تاہم سلووینیا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ اسرائیل نے اپنے اقدام کو خطے میں استحکام کے لیے ایک موقع قرار دیا۔