پاکستان نے غزہ کی تعمیر نو کیلئے او آئی سی و عرب منصوبے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کر دیا

پاکستان کا اقوام متحدہ میں بھرپور مؤقف: صرف اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے ہی پائیدار امن ممکن ہے

نیویارک (ایجنسیاں) اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں آئندہ ماہ ہونے والی بین الاقوامی اسرائیل-فلسطین امن کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں منعقدہ ایک اہم سفارتی اجلاس میں پاکستان نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، غزہ کی تعمیر نو، اور دو ریاستی حل کیلئےاپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”غزہ میں جاری تباہی، انسانی بحران، اور قابض طاقت کی جانب سے فلسطینی عوام کیخلاف غیر قانونی اقدامات عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں۔ صرف اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے ہی ایک منصفانہ، پائیدار اور دیرپا امن ممکن ہو سکتا ہے۔”

سفیر نے واضح کیا کہ 17 تا 20 جون 2025 کو نیویارک میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس جو کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دسمبر 2024 کی قرارداد کے تحت بلائی جا رہی ہے ایک فیصلہ کن موقع ہے کہ عالمی برادری عملی اقدامات کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب بڑھ سکے۔ کانفرنس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس کریں گے۔

“پاکستان کے مطالبات اور تجاویز”

✅ فوری جنگ بندی اور مکمل نفاذ
✅ غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی کا خاتمہ
✅ انسانی امداد تک بلارکاوٹ رسائی، خاص طور پر انروا کے ذریعے
✅ شہریوں اور امدادی کارکنوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے
✅ او آئی سی اور عرب گروپ کے مجوزہ غزہ تعمیر نو منصوبے پر فوری عملدرآمد

“غزہ تعمیر نو منصوبے میں شامل کلیدی نکات”

غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان عبوری راہداری (Transit Corridor)
غزہ میں سمندری بندرگاہ کی بحالی
صنعتی زونز کا قیام
علاقائی تسلسل اور فلسطینی وحدت کا فروغ

“اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد”
سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کیلئے ایک مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، تاکہ غیر قانونی بستیوں اور قبضے کے خلاف اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

“فلسطینی ریاست کی حمایت اور دو ٹوک مؤقف”
پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ”یہ ریاست 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہونی چاہیے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔ ہم کسی بھی قسم کی جبری نقل مکانی، زمینوں کے انضمام، یا فوجی تسلط کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔”

“جنرل اسمبلی کے صدر کا بیان”
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلمن یانگ نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا”غزہ میں گزشتہ 19 ماہ سے جاری المناک صورتحال اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ یہ تنازع نہ تو مستقل جنگ سے، نہ قبضے اور نہ انضمام سے ختم ہو گا . اس کا واحد حل دو ریاستی اصول ہے۔”

“پاکستان کا عزم”
پاکستان نے یقین دہانی کروائی کہ وہ اس کانفرنس کی مکمل حمایت کریگا اور ایک قابلِ عمل، باوقار اور مستقل امن کیلئےاپنے کردار کو مؤثر انداز میں نبھائے گا۔”پاکستان پختہ یقین رکھتا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے، اور اس مقصد کیلئے ہم سفارتی، انسانی اور سیاسی سطح پر ہر ممکن اقدام کریں گے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں