اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کیلئےبورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ یہ دعوت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو دی گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے غزہ میں امن کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 جنوری کو اپنی سربراہی میں غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں۔
غزہ میں بورڈ آف پیس کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

