پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی جماعت نے عوامی خدمت، جمہوری جدوجہد، اور قومی وقار کو ایک نئی پہچان دی ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بینظیر بھٹو شہید اور آج بلاول بھٹو زرداری تک، اس جماعت نے نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ قومی تعمیر کے ہر محاذ پر اپنا نشان چھوڑا ہے۔
پیپلز پارٹی کے 14 سالہ مجموعی دورِ حکومت کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسی داستان بنتی ہے جس میں قربانی بھی ہے، خدمت بھی، جرات بھی اور وژن بھی۔پیپلز پارٹی نے قوم کو صرف سیاسی نعرے نہیں دیے، بلکہ ایک ایسا آئین دیا جو آج بھی پاکستان کی جمہوری روح کی اساس ہے۔یہی دور تھا جب ووٹ کا حق عام شہری کو ملا، قادیانی مسئلہ پارلیمنٹ میں آئینی طور پر حل ہوا، اور پاکستان کو ایٹمی قوت بننے کی بنیاد فراہم کی گئی۔بھٹو کا وہ تاریخی عزم ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے آج پاکستان کے دفاعی وقار کی علامت ہے۔پیپلز پارٹی نے پاکستان کو عالمی سطح پر سر اٹھا کر چلنا سکھایا۔
چین کے ساتھ تعلقات استوار کیے، اسے تیسری دنیا میں متعارف کرایا، ویٹو پاور تک پہنچنے میں کردار ادا کیا،روس سے رابطے بحال کیے اور امریکہ کے تسلط سے نکل کر ایک متوازن خارجہ پالیسی دی۔1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھٹو نے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے تاریخ رقم کی۔یہ پیپلز پارٹی ہی تھی جس نے پاکستان اسٹیل مل، ریلوے کے جدید ڈھانچے، ایف آئی اے، واہ ہیوی انڈسٹری، کہوٹہ ایٹمی پلانٹ اور گوادر پورٹ جیسے منصوبے دیے۔سی پیک کے ابتدائی خاکے سے لے کر پاک ایران گیس پائپ لائن تک کے خواب اسی نظریے کی توسیع ہیں۔
اسی دور میں اوپن یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، زوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی، شاہ لطیف صوفی یونیورسٹی، اور درجنوں دیگر جامعات قائم ہوئیں جنہوں نے علم و آگہی کے چراغ روشن کیے۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے صوبوں کو ان کا حق دیا۔اٹھارویں آئینی ترمیم اور متفقہ این ایف سی ایوارڈ اس کی روشن مثالیں ہیں۔سندھ میں 20 سے زائد یونیورسٹیاں، دل کے علاج کے جدید NICVD ہسپتال، ونڈ انرجی منصوبے، اور کیڈٹ کالجز پیپلز پارٹی کے عوام دوست وژن کا ثبوت ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے لاکھوں غریب گھرانوں کو عزت سے جینے کا سہارا دیا۔پیپلز پارٹی نے اپنے رہنما، اپنے کارکن، اور اپنی قیادت قربان کر کے جمہوریت کو زندہ رکھا۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر بینظیر بھٹو کی شہادت تک، یہ جدوجہد خون سے لکھی گئی۔اسی جذبے نے ملک میں دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں ہمت اور مزاحمت کا حوصلہ دیا۔سندھ سمیت ملک بھر میں ثقافتی مراکز، صوفی یونیورسٹیاں، اور اقلیتوں کے لیے قانون سازی جیسے ہندو شادی ایکٹ پیپلز پارٹی کے روادار پاکستان کا ثبوت ہیں۔یہ وہی جماعت ہے جس نے مذہبی، لسانی اور علاقائی تقسیم سے اوپر اٹھ کر “روٹی، کپڑا اور مکان” کے وعدے کو عوامی حق بنایا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی داستان صرف حکومت کے سالوں کی نہیں، ایک فلسفے کی ہے فلسفۂ مساوات، جمہوریت، عوامی طاقت، اور پاکستان کی خودمختاری کا۔جو سوال آج بھی باقی جماعتوں سے پوچھا جا سکتا ہے وہ یہی ہے پیپلز پارٹی نے تو دیا آئین، ایٹم بم، وقار، اور عوامی فلاح اب باقیوں نے کیا دیا؟
پاکستان پیپلز پارٹی زندہ باد ❤🖤💚
“تُمہارا خون بہا، ہماری آزادی کا چراغ بنا۔”

