اسلام آباد / پینانگ، ملائیشیا(نمائندہ خصوصی)ایڈیشنل فارن سیکریٹری برائے ایشیا پیسیفک عمران احمد صدیقی نے ملائیشیا کے شہر پینانگ میں منعقدہ آسیان ریجنل فورم (ARF) سینئر آفیشلز میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں پاکستان نے ایشیا پیسیفک خطے میں پائیدار امن، کثیرالجہتی سفارتکاری، اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی تعاون کیلئے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے آسیان کی مرکزیت کو ایک پرامن، مستحکم اور باہمی تعاون پر مبنی ایشیا پیسیفک کی تشکیل میں کلیدی قرار دیا۔پاکستان نے کہا کہ ARF کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کی بقا اور فروغ کیلئے ایک اہم ذریعہ ہے جو تحفظ پسندی اور یک طرفہ اقدامات کا تدارک کرتا ہے۔
پاکستان نے آئندہ ARF اجلاسوں کیلئے جامع سلامتی پر دو تجاویز پیش کیں جو خطے میں امن، اعتماد سازی، اور انسانی سلامتی کو تقویت دیں گی۔پاکستان کا مؤقف تھا کہ”کثیرالجہتی نظام کی بقاء ہی کافی نہیں، ہمیں اسے ایک نئی روح سے فعال کرنا ہوگا۔”
پاکستان نے پہلگام واقعہ سے متعلق بے بنیاد بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ”الزامات وہ لگا رہے ہیں جن کا ریکارڈ کلبھوشن یادیو جیسے کیسز سے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔”پاکستان نے بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، سرحد پار مداخلت، آبی جارحیت، اور مذہبی جبر کی روش پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کہ”ایسے ملک سے دہشت گردی پر وعظ کا کوئی جواز نہیں جو خود عدم استحکام اور نفرت کا پرچار کرتا ہو۔”پاکستان نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ ہی جنوبی ایشیا میں بدامنی کی جڑ ہے۔
بھارتی فوجی مشقوں اور بیانات کو الیکشن اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ”ایسی حرکات سے امن نہیں، صرف انا کو تسکین ملتی ہے۔””جب پالیسی بولی وڈ کی نقل کرے، تو سچائی خواب بن جاتی ہے اور واہمہ نظریہ۔”
پاکستان نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے — پانیوں کی غیر قانونی بندش، غیر مجاز ڈیموں کی تعمیر، اور ثالثی سے انکار۔ان خلاف ورزیوں نے بھارت کی بین الاقوامی قوانین سے روگردانی اور دوہرے معیارات کو بے نقاب کیا۔
پاکستان نے کہا”اگر منافقت معیار بن جائے، تو بھارت مستقل نشست کا اصل امیدوار بن جائے۔””سفارتکاری کوئی جلسہ عام نہیں، اور ریاستی حکمت عملی کسی انتہا پسند منشور سے متاثر نہیں ہونی چاہیے۔”پاکستان نے ARF اجلاس میں سنجیدہ، دلیل پر مبنی اور حقیقت پر قائم موقف پیش کیا۔پاکستان کا پیغام واضح تھا”ہم امن چاہتے ہیں لیکن امن عزت، انصاف اور حقیقت پر مبنی ہونا چاہیے۔”

