اسلام آباد(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کی 28 نومبر سے بھارت میں شیڈول جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کو این او سی نہ ملنے کا خدشہ ہے، اور کسی بھی پاکستانی اسپورٹس ٹیم کے رواں برس بھارت جانے کے امکانات معدوم دکھائی دے رہے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کو ایک بار پھر بین الاقوامی مقابلے کیلئےقومی ٹیم کو بیرونِ ملک بھیجنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور اس بار جونیئر ہاکی ورلڈکپ 2024 داؤ پر لگ گیا ہے، جو رواں سال 28 نومبر سے بھارت میں منعقد ہونا ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) نے ٹورنامنٹ کیلئےٹیموں کو مختلف پولز میں تقسیم کر رکھا ہے، اور پاکستان کو جس پول میں رکھا گیا ہے اس میں میزبان بھارت کی ٹیم بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ایشیا ہاکی کپ میں شرکت کیلئےبھی قومی ٹیم کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا، اور پی ایچ ایف حکام کو اس فیصلے سے پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ رواں برس کسی بھی اسپورٹس ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت ملنے کے امکانات نہایت کم ہیں، جس کے باعث نہ صرف جونیئر ورلڈکپ بلکہ آئندہ دیگر مجوزہ مقابلے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض سابق اولمپئنز اور ہاکی ماہرین کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایشیا کپ اور جونیئر ورلڈکپ کو کسی غیر جانبدار مقام (نیوٹرل وینیو) پر منتقل کیا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ماضی میں جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں متعدد بار شرکت کی ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کیلئےیہ ایونٹ مستقبل کی قومی ٹیم کی تیاری کیلئے اہم تصور کیا جاتا ہے۔

