پاکستان کے آئین میں فوج کا کردار براہ راست سیکیورٹی اور دفاع سے متعلق ہے۔ اس میں زرعی پیداوار بڑھانے کی ذمہ داری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ آئین کی مختلف آرٹیکلز میں فوج کی ذمہ داریوں اور اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سب سے اہم درج ذیل ہیں:
1. آرٹیکل 243: یہ آرٹیکل فوج کی تنظیم، افسران کے تقرر اور فوج کی قیادت کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اس کے تحت پاکستان کی فوج کے کمانڈر انچیف کو صدر پاکستان مقرر کرتے ہیں، اور فوج کا مقصد ملکی دفاع ہے۔
2.دفعہ 245: اس دفعہ کے تحت فوج کو ملک کی اندرونی سیکیورٹی کو برقرار رکھنے اور غیر معمولی حالات میں مدد فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
3.دفعہ 247: یہ دفعہ فوج کی مدد سے متعلق ہے اور غیر آئینی یا فوجی حکومت کے قیام کی اجازت نہیں دیتی، مگر قومی سلامتی کے مقاصد کیلئےآئین کے مطابق فوج کو اقدامات کی اجازت دیتی ہے۔
پاکستان کے آئین میں فوج کو قومی دفاع اور سیکیورٹی کے امور میں اہم کردار دیا گیا ہے، لیکن اس کے سیاسی یا حکومتی امور میں براہ راست مداخلت کی کوئی آئینی بنیاد نہیں ہے۔ فوج کی آئینی حیثیت فوجی حکومتوں کی موجودگی کے باوجود محدود کی گئی ہے، اور اس کا بنیادی کردار دفاع اور سیکیورٹی کی ذمہ داریوں تک محدود ہے۔ باقی فوج کا سربراہ جہاں چاہے ہل چلا سکتا ہے۔

