پاک افغان سرحد کی بندش سے تجارت مفلوج، سیمنٹ، ادویات اور زرعی برآمدات متاثر

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاک افغان سرحد کی بندش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت متعدد اہم صنعتیں بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔

سرحد بند ہونے کے بعد پاکستان کی برآمدات اور افغانستان سے درآمدات دونوں رک گئی ہیں، جس سے کاروباری افراد شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو پاکستان کی برآمدات پر مزید دباؤ پڑیگا.

“سیمنٹ اور کوئلہ”
سیمنٹ کی صنعت کو زیادہ تر افغان کوئلے پر انحصار ہوتا ہے، اور سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان سے کوئلے کی درآمد اور وہاں کو سیمنٹ برآمد رک گئی ہے، جس سے مقامی کوئلے کی قیمت 30 سے 32 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 42 سے 45 ہزار روپے فی ٹن ہو گئی ہے۔ شمالی پاکستان کے سیمنٹ کارخانے اب مجبوری میں جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور موزمبیق سے کوئلہ منگوا رہے ہیں۔

“ادویات”
پاکستان کی کل افغانستان کو برآمدات میں ادویات کا حصہ تقریباً 18.7 کروڑ ڈالر ہے۔ غیر رسمی چینلز کے ذریعے ادویات کی برآمدات قانونی چینلز سے تین گنا زیادہ ہیں۔ سرحد بند ہونے سے اسٹاک جمع ہو گئے ہیں، اور اگر صورتحال برقرار رہی تو ادویات پاکستان میں استعمال کی جا سکتی ہیں، کیونکہ افغانستان کے لیے تیار شدہ بہت سی ادویات وہاں نہیں پہنچ سکیں گی۔

“سبزیاں اور پھل”
پاکستان افغانستان کو کیلا، آلو، کینو اور آم برآمد کرتا ہے، جبکہ افغانستان سے ٹماٹر، پیاز، انار، انگور اور خوبانیاں درآمد کی جاتی ہیں۔ سرحد بند ہونے کے باعث برآمد کنندگان کو پھل اور سبزیوں کو کم قیمت پر بیچنے یا ضائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن مالیاتی اسناد دستیاب نہیں ہیں۔

“دیگر مصنوعات”
گھی، کوکنگ آئل اور آٹے کی برآمدات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ تجارت بند ہونے سے قبل ماہانہ 6 سے 8 ہزار ٹن گھی افغانستان برآمد ہوتا تھا، جبکہ کوکنگ آئل کی برآمدات تقریباً بند ہیں۔ افغانستان میں گندم کی مارکیٹ بھی پاکستان سے ختم ہو گئی ہے۔

کاروباری نمائندوں نے کہا ہے کہ سرحد کی بندش سے نہ صرف درآمدات و برآمدات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ پاکستانی کاروباری برادری کو مالی نقصان کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔