کوالالمپور(رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ دنیا بھر میں امن کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اپنی انتظامیہ کے 8 ماہ میں 8 جنگیں روک کر تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے پاک افغان مسائل کے حوالے سے کہا کہ وہ اس تنازعے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر فی الحال اس کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
صدر ٹرمپ یہ بات ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں 47 ویں آسیان سربراہی اجلاس کے دوران، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں امن معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
“صدر ٹرمپ کے اہم بیانات”
“میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل دوبارہ شروع ہوگئے ہیں مجھے لگتا ہے میں اس مسئلے کو حل کر سکتا ہوں، لیکن فی الحال مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔”
انہوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اچھے لوگ ہیں اور انہیں اعتماد ہے کہ دونوں ممالک کا مسئلہ جلد حل ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ جنگیں روکنا ان کی ترجیح ہے اور وہ تجارت کے ذریعے بھی امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔
“امن معاہدے کا پس منظر”
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں نے امریکی صدر کی موجودگی میں ایک جامع جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے۔ ٹرمپ نے جولائی میں مداخلت کر کے دونوں ممالک کے پانچ روزہ سرحدی تنازع کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
“معاہدے کے اثرات”
نیا معاہدہ پچھلے تین ماہ میں طے شدہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کریگا.
امریکی صدر نے کمبوڈیا کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدے اور تھائی لینڈ کے ساتھ معدنی وسائل سے متعلق اہم معاہدے بھی دستخط کیے.
کوالالمپور میں جاری 3 روزہ آسیان سربراہی اجلاس میں چینی صدر بھی شریک ہونگے، اجلاس میں خطے کے اہم امور جیسے غزہ کی صورتحال، میانمار میں خانہ جنگی، اور دیگر عالمی مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے ملائیشین وزیراعظم کے ساتھ بھی پرجوش ملاقاتیں کیں اور ریڈ کارپٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

