اسلام آباد/کابل/نئی دہلی(ایجنسیاں)حالیہ رپورٹ کے مطابق پاک-بھارت کشیدگی کے دوران افغانستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطح پر خفیہ روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے قریبی ساتھی اور موجودہ نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر نے خفیہ طور پر بھارت کا دورہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ابراہیم صدر طالبان کی اعلیٰ قیادت میں اسٹریٹیجک فیصلوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پر ماضی میں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گرد سرگرمیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کی پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی خارجہ سیکریٹری نے 27 اپریل کو کابل کا دورہ کیا.افغان وزیر خارجہ نے رواں برس جنوری میں دبئی میں بھارتی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی.حالیہ دنوں میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے براہِ راست ٹیلیفونک رابطہ کیا. جس میں پہلگام واقعے کی مذمت اور دو طرفہ تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
ان رابطوں نے جنوبی ایشیاء میں جاری سکیورٹی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی ماہرین نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت اپنی پالیسیوں کی شفاف وضاحت کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ روابط نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر پڑوسی ممالک کیلئے بھی سکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتے ہیں اور اس پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

