کراچی/ریاض ( نمائندہ خصوصی+بیورورپورٹ)سعودی عرب کے ساتھ تاریخی باہمی دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔ جمعرات کو کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1775 پوائنٹس (1.14 فیصد) کا اضافہ ہوا اور یہ ایک لاکھ 57 ہزار 953 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی دارالحکومت ریاض کے الیمامہ پیلس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف نے کہا کہ اس معاہدے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نئی قوت دی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس بلند ترین سطح پر بند ہوا اور کاروباری حجم دوسرے سب سے زیادہ ریکارڈ ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع کھلیں گے، جن میں ہنر مند افرادی قوت کی برآمد اور سرمایہ کاری کے امکانات شامل ہیں۔
وزیراعظم کے دورۂ ریاض کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کریں اور خطے میں امن و سلامتی کیلئے مل کر کام کریں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں اسرائیلی حملے کے بعد اجتماعی سلامتی کے نئے رجحان نے جنم لیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دہائیوں کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ دونوں ممالک کا تعاون 1967 سے قائم ہے اور 1979 میں مسجدِ حرام کے واقعے کے بعد مزید گہرا ہوا، جب پاکستانی اسپیشل فورسز نے سعودی افواج کے ساتھ مل کر مسجدِ حرام کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا تھا۔
1982 میں باضابطہ سیکیورٹی تعاون معاہدے کے تحت پاکستان نے سعودی عرب میں فوجی تربیت اور تعیناتی فراہم کی، بعض اوقات 20 ہزار تک پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات رہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے عدم استحکام کے باعث یہ تعلق مزید اہم ہو گیا اور فروری میں ریاض میں ہونے والی جوائنٹ ملٹری کوآپریشن کمیٹی کی میٹنگ میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیا معاہدہ پاکستان کو خطے کے ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک ڈھانچے میں کلیدی سیکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر مضبوط کرتا ہے اور اہم سعودی سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ سعودی عرب کیلئے یہ معاہدہ ایران، حوثیوں اور اسرائیلی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

