پرانی باتیں اور دوستوں کے قہقہے

آج سنڈے کی چھٹی اور ریان کے ساتھ دھینگا مشتی کا ایک دن ۔۔۔۔۔کہ اچانک لیاقت نواز ملک کا نمبر فون پر نمودار ہوا، بتانے لگے کہ دوستوں کے ساتھ کافی کا دور چل رہا ہے تو سوچا کہ آپ سے بات کر لی جائے، کچھ دیر گپ شپ رہی، پرانی باتیں تازہ کیں، دوستوں کو یاد کیا، قہقہے لگے، جناب سلیم جنجوعہ اور اشرف لودھی کا ذکر ہوا اور جلد ملاقات کے وعدے ۔۔۔

اگرچہ لیاقت ملک شروع دن سے بلکہ یوں کہہ لیں کہ اپنی کالج لائف کے زمانے سے ہی ذوالفقار علی بھٹو، پھر محترمہ بےنظیر بھٹو شہید اور پیپلز پارٹی کے نظرئیے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں مگر اس کے باوجود ایک بےحد جمہوری سوچ کی حامل شخصیت ہیں اور جمہوریت کے فروغ کیلئےاپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کے حامی ہیں .

جب فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کو سعودی عرب جلاوطن کیا تو لیاقت ملک نے محترمہ بےنظیر بھٹو کی اجازت سے سرور پیلس جدہ میں میاں نواز شریف سے رابط کیا اور پارٹی کی طرف سے انہیں حوصلہ دیا جو سیاسی رواداری کی ایک شاندار مثال بن گئی.

پھر پارٹی سے ہٹ کر انفرادی طور پر بھی ( مگر محترمہ بی بی شہید کی اجازت سے) ملک صاحب نے نواز شریف کی مدد کا فیصلہ کیا تاکہ ان کیلئے بین الاقوامی میڈیا میں آواز اٹھائی جاسکے۔ میں خود بھی گواہ ہوں جب میں نے اور اشرف لودھی نے تین بار میاں نواز شریف کو جدہ کال کی اور آخری بار میاں شہباز شریف سے بھی اشرف لودھی کی تفصیلی بات چیت ہوئی جسے میں خود بھی سن رہا تھا.

میاں نواز شریف جب بالآخر برٹش پارلیمنٹ کے رکن چوہدری محمد سرور کی کوششوں سے برطانیہ کا وزٹ ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور لندن پہنچے تو میں بھی ان دنوں وہاں تھا اور میں نے میاں نواز شریف سے پہلی ملاقات میں انہیں لیاقت ملک کی efforts کا ذکر کیا تو انہوں نے ناصرف اپنی یادداشت تازہ کی بلکہ شکریہ بھی ادا کیا.

یہ جمہوریت سے محبت کرنے والے انسان لیاقت ملک کی خوبیوں میں سے صرف ایک کی چھوٹی سی جھلک ہے، وہ دوستوں کے دوست، مشکل وقت کے ساتھی اور کمیونٹی کے ایک مضبوط سائبان ہیں.
اللہ انہیں سلامت رکھے.

اپنا تبصرہ لکھیں