لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے انکشاف کیا ہے کہ گولڈ میڈل جیتنے کے بعد کیے گئے پلاٹس کے تمام وعدے محض دعووں تک محدود رہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں صرف نقد انعامات ہی ملے، جبکہ زمین یا رہائشی پلاٹوں سے متعلق وعدے وفا نہ ہو سکے۔
پاکستان کے مایہ ناز نیزہ باز ارشد ندیم، جنہوں نے گزشتہ برس 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ نہ صرف نیا ریکارڈ قائم کیا بلکہ پاکستان کو 40 سال بعد اولمپکس میں گولڈ میڈل جتوانے کا اعزاز بھی حاصل کیا، اب انعامات کے حوالے سے مایوسی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔
ارشد ندیم نے رواں سال ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں بھی گولڈ میڈل جیت کر عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی اور وطن کا نام روشن کیا۔ اس شاندار کارکردگی پر مختلف سرکاری و غیرسرکاری اداروں اور شخصیات کی جانب سے انہیں کروڑوں روپے، رہائشی پلاٹس اور دیگر انعامات دینے کے وعدے کیے گئے تھے۔
تاہم حال ہی میں ایک انسٹاگرام انٹرویو کے دوران ’داستان ڈیجیٹل‘ کو دیے گئے بیان میں ارشد ندیم نے انکشاف کیا کہ پلاٹس سے متعلق تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ کچھ نقد انعامات انہیں ضرور دیے گئے، تاہم جن زمینوں یا رہائشی اسکیموں کا ذکر کیا گیا تھا، وہ تاحال عملی صورت اختیار نہیں کر سکیں۔
ارشد ندیم کا کہنا تھا”پلاٹس کے جتنے بھی وعدے کیے گئے، وہ سب محض دعوے ہی تھے۔ حقیقت میں صرف کیش ملا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی اپنی محنت جاری رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ مقابلوں میں پاکستان کے لیے مزید تمغے جیتنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ارشد ندیم کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان نے ملک میں ایتھلیٹس سے کیے جانے والے وعدوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو عالمی سطح پر مزید کامیابیاں درکار ہیں، تو کھلاڑیوں سے کیے گئے وعدوں کو نہ صرف نبھانا ہوگا بلکہ انہیں عملی طور پر سراہنا بھی ہوگا۔

