اوٹاوا ( نمائندہ خصوصی) کینیڈا کی اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی آف کینیڈا نے لبرل حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ کے متلاشی افراد کو فراہم کی جانے والی صحت سہولیات کا ازسرِ نو جائزہ لے اور مسترد شدہ درخواست گزاروں کے لیے مراعات محدود کرے۔ اس حوالے سے ہاؤس آف کامنز میں ایک تحریک پر ووٹنگ متوقع ہے۔
کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ مشیل ریمپل گارنر کی پیش کردہ اپوزیشن ڈے موشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناکام پناہ گزین درخواست گزاروں کو صرف ہنگامی اور جان بچانے والی طبی سہولتیں دی جائیں، جیسا کہ 2012 میں سابق وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کی حکومت نے کیا تھا۔
کینیڈا میں پناہ گزینوں کو وفاقی پروگرام انٹرم فیڈرل ہیلتھ پروگرام (IFHP) کے تحت صحت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جس میں ہسپتال، ڈاکٹر، ایمبولینس اور لیبارٹری ٹیسٹ جیسی بنیادی خدمات شامل ہیں، جبکہ اضافی سہولیات میں کونسلنگ، ڈینٹل کیئر، محدود بصری علاج اور دیگر معاونت شامل ہے۔
ریمپل گارنر کا مؤقف ہے کہ اضافی کوریج ایسے اخراجات کا احاطہ کرتی ہے جو عام کینیڈین شہریوں کو دستیاب نہیں، اور اس پروگرام کی لاگت 2025-26 میں تقریباً 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
پارلیمانی بجٹ آفیسر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں پروگرام کی لاگت 21 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھی جو 2024-25 تک بڑھ کر 89 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئی، اور 2029-30 تک اس کے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ اخراجات میں اضافہ جاری رہے گا، تاہم آئندہ برسوں میں شرحِ اضافہ نسبتاً کم رہنے کی پیش گوئی ہے۔

امیگریشن وزیر لینا میٹلیج دیاب نے کہا کہ بل C-12 میں شامل اقدامات سے نااہل درخواستوں کو تیزی سے مسترد کرنے میں مدد ملے گی اور حکومت سرحدوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ حقیقی ضرورت مند افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور نے وزیر اعظم مارک کارنی سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریک کی حمایت کریں اور امیگریشن نظام کو کنٹرول میں لائیں۔ جواب میں کارنی کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں پناہ کی درخواستوں میں ایک تہائی کمی آئی ہے، اسٹوڈنٹ ویزوں میں 60 فیصد اور عارضی غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں نصف تک کمی کی گئی ہے۔
دوسری جانب نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جینی کوان نے کہا کہ بڑھتے اخراجات کی بڑی وجہ درخواستوں کا بیک لاگ ہے، جس کا بوجھ پناہ گزینوں پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ 2012 میں ہارپر حکومت کی جانب سے کی گئی کٹوتیوں کو بعد ازاں وفاقی عدالت نے “ظالمانہ اور غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا تھا، اور 2015 میں لبرل حکومت آنے کے بعد وہ اپیل واپس لے لی گئی اور سہولیات بحال کر دی گئیں۔پناہ گزینوں کی وکالت کرنے والی تنظیم کینیڈین کونسل فار ریفیوجیز نے مجوزہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کو عدالتیں اور طبی برادری پہلے بھی مسترد کر چکی ہیں۔

