پنجاب حکومت کا طرزِ حکمرانی غریب عوام کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے: محمد سلیم مغل

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے میڈیا کوآرڈینیٹر و سابق سیکرٹری اطلاعات پیپلز لیبر بیورو پنجاب محمد سلیم مغل نے صوبائی حکومت کی توجہ سرکاری ملازمین کو درپیش سنگین معاشی، انتظامی اور سماجی مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات نے سرکاری ملازمین کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بے قابو مہنگائی، بجلی و گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے باعث متوسط اور نچلے طبقے کے ملازمین شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہزاروں سرکاری ملازمین کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنیوالے اساتذہ، کلرک، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر محکموں کے ملازمین سخت موسمی حالات کے باوجود سڑکوں پر موجود ہیں، جبکہ متعدد افراد فٹ پاتھوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

محمد سلیم مغل نے کہا کہ احتجاج میں شریک ملازمین کی بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں اور پنشن اصلاحات، کٹوتیوں اور غیر یقینی پالیسیوں کے باعث عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین اپنے جائز حقوق، پنشن کے تحفظ اور سروس اسٹرکچر کی بحالی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں اور ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کریں۔ ان کے بقول طویل خاموشی اور عدم پیش رفت سے ملازمین میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ پنجاب کے دیگر اضلاع تک پھیل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف سرکاری ملازمین تک محدود نہیں بلکہ متوسط طبقے کے معاشی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔

محمد سلیم مغل نے سیاسی و سماجی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھائیں اور باعزت روزگار، پنشن اور سروس تحفظ کے حق کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔