پنجاب میں شفاف ای ٹینڈرنگ، مگر ؟

پنجاب ،پاکستان کا دل ہے اور یہاں سے اٹھنے والی سیاسی تحریکوں نے اکثر پاکستان کے آنیوالے حالات کی راہیں متعین کی ہیں ،اسی طرح پنجاب کی گورننس ،بیوروکریسی اور یہاں کی ترقی بھی باقی صوبوں کیلئےباعث تقلید بنتی ہے ، اسکی مثالیں دی جاتی ہیں،سیاسی حالات اس وقت میرا موضوع نہیں مگر مختلف محکموں میں آنے والی انتظامی بہتری اور دوسری تبدیلیوں کی بات کر لیتے ہیں،ایک طویل عرصے تک پنجاب میں ترقیاتی منصوبے ہمیشہ سے سیاست، بیوروکریسی اور ٹھیکید اری نظام کے باہمی تعلقات کا مرکز رہے ہیں.

سڑکیں ، پل ، عمارتیں یا انفراسٹرکچر کے دوسرے بڑے منصوبے ،ان سب میں شفافیت کا فقدان، سیاسی مداخلت،کرپشن اور کمیشن کلچر ایک تلخ حقیقت کے طور پر موجود اور نمایاں رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں محکمہ مواصلات و تعمیرات سمیت متعدد تعمیراتی محکموں میں ای ٹینڈرنگ سسٹم کے نفاذ نے اس فرسودہ نظام کو چیلنج کیا ہے اور پہلی بار یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید ترقیاتی عمل واقعی میرٹ، شفافیت اور مسابقت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتا ہے ۔ ای ٹینڈرنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نے ٹھیکوں کے اجرا کے عمل کو انسانی مداخلت سے بڑی حد تک آزاد کر دیا ہے.

اب فائلیں میزوں پر گھومتی ہیں نہ بند کمروں میں فیصلے ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی یا بااثر شخصیت کے فون کال پر ٹھیکے دیے جا سکتے ہیں، بولی لگانے سے لے کر ٹیکنیکل اور فنانشل ایویلیوایشن تک ہر مرحلہ ڈیجیٹل نظام کے تحت ریکارڈ پر آ جاتا ہے، جس سے بعد ازاں آڈٹ اور احتساب بھی ممکن ہو جاتا ہے، محکمہ مواصلات و تعمیرات اس حوالے سے ایک مثالی ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے، صوبے بھر میں سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اسی ڈیجیٹل نظام کے تحت مکمل کئے جا رہے ہیں۔ اس کا ایک نمایاں نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ارکانِ اسمبلی اور حکومتی سیاستدان ،جو ماضی میں ترقیاتی فنڈز اور ٹھیکوں پر اثر انداز ہوتے تھے، اب اس عمل سے آہستہ آہستہ عملاً باہر ہو چکے ہیں.

اس نظام سے نہ صرف سیاسی دباؤ میں کمی آئی ہے بلکہ ٹھیکیداروں کے درمیان بھی حقیقی مقابلہ پیدا ہوا ہے جس سے سرکاری خزانے کو فائدہ اور کام کے معیار میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ محکمہ مواصلات کو آج پنجاب کے نسبتاً صاف شفاف محکموں میں شمار کیا جا رہا ہے،یہاں شکایات کم ہوئی ہیں، منصوبوں کی لاگت کنٹرول میں ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کرپشن کے وہ دروازے بند ہوئے ہیں جو دہائیوں سے کھلے چلے آ رہے تھے،سی اینڈ ڈبلیو کے سیکرٹری سہیل اشرف کی شبانہ رو ز محنت اور اچھے کردار کی بھی ان دنوں مثالیں دی جا رہی ہیں.

اپنے کام کی وجہ سے ہی وہ سیاسی اور انتظامی باسز کے چہیتے سمجھے جاتے ہیں ، مگر مجھے چند روز پہلے کسی نے ای ٹینڈرنگ کی تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی دکھایا ہے جو اس قدر خوش کن نہیں، اگر ایک طرف محکمہ مواصلات و تعمیرات ای ٹینڈرنگ کے ذریعے شفافیت کی مثال بن رہا ہے تو دوسری طرف ای ٹینڈرنگ کے باوجود لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے کچھ سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں،اطلاعات اور زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ای ٹینڈرنگ کے باوجود ایل ڈی اے میں ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے اب بھی مختلف طریقوں سے “مینیج” کیے جا رہے ہیں، کچھ چہیتے سیاستدانوں کی فرماں برداری کی جا رہی ہے تو کہیں مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے.

اسی طرح کہیں ٹیکنیکل شرائط کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ مقابلہ محدود ہو جائے تو کہیں منصوبوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا رہے ہیں، سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ارکانِ اسمبلی، جن کی مداخلت ای ٹینڈرنگ کے باعث محکمہ مواصلات میں تقریباً ختم ہو چکی ہے، اب اپنی لاہور کی ترقیاتی اسکیمیں باقاعدہ طور پر محکمہ مواصلات کے بجائے ایل ڈی اے سے امپلی منٹ کیوں کروا رہے ہیں؟ یہ رجحان محض اتفاق نہیں بلکہ ایک واضح اشارہ ہے کہ ایل ڈی اے میں اب بھی وہ “گنجائش” موجود ہے جہاں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا جا سکتا ہے.

سوال یہ ہے کہ جب صوبے کے دیگر تعمیراتی محکمے ایک ہی پالیسی، ایک ہی نظام اور ایک ہی اصول کے تحت بہتر کام کر رہے ہیں تو صرف ایل ڈی اے میں اس سے الگ کام کیوں ہو رہا ہے؟ کیا لاہور کوئی علیحدہ ریاست ہے جہاں شفافیت کے قوانین کو توڑ مروڑ کر استعمال کیا جا رہا ہے ؟ یا پھر یہ وہی پرانا معاملہ ہے کہ جہاں نگرانی کم اور نگران آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہو وہاں کرپشن کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں؟ ایل ڈی اے کا دائرہ اختیار چونکہ لاہور جیسے بڑے اور مہنگے شہر تک محدود ہے، اس لیے یہاں کے ترقیاتی منصوبوں کی مالیت بھی اربوں روپے تک پہنچ جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ادارے میں شفافیت کا فقدان محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی مفاد اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے.

اگر یہاں ٹھیکے شفاف طریقے سے نہ دیے جائیں تو نہ صرف مالی بدعنوانی بڑھتی ہے بلکہ ناقص تعمیرات، تاخیر اور ناقابلِ استعمال منصوبے بھی سامنے آتے ہیں،جن کا خمیازہ بالآخر شہریوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے، یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ ، کیا پنجاب میں ترقیاتی عمل کے لیے دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے؟ ایک طرف صوبے بھر میں ای ٹینڈرنگ کو لازم قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف صوبے کے دارالحکومت میں اس نظام کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جا رہی ہے ، اگر ای ٹینڈرنگ واقعی کرپشن روکنے اور شفافیت لانے کا مؤثر ذریعہ ہےاور اس کے نتائج محکمہ مواصلات میں واضح ہیں تو پھر ایل ڈی اے میں اس نظام کے باوجود آنکھیں بند کیوں ہیں .

یہاں حکومت اور بالخصوص اعلیٰ سطحی پالیسی سازوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں، اگر مقصد واقعی اصلاحات ہیں تو پھر ان کا مکمل اطلاق منتخب اداروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، ورنہ اصلاحات محض نعرہ بن کر رہ جاتی ہیں اور عملی طور پر وہی پرانا نظام نئے ناموں کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو، سیاسی عزم ہو اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو کرپشن کو نمایاں حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

سوچنے سمجھنے والی بات یہ ہے کہ تکنیکی اور انتظامی طور پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ذریعے بننے والی لاہور کی سڑکیں اور منصوبے ،ایل ڈی اے سے کیوں امپلی منٹ کرائے جا رہے ہیں ؟ ارکانِ اسمبلی اپنی اسکیمیں سی اینڈ ڈبلیو کی بجائے ایل ڈی اے سے کیوں بنوانا چاہتے ہیں؟میرے خیال میں اسکی وجہ سے ادارے کی شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں اور ای ٹینڈرنگ کے باوجود ہونے والے اس باریک کام سے “کرپشن کی بو” محسوس ہو رہی ہے، یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے شہر لاہور میں شفافیت کے نظام کو کمزور کرنے کی سازش کون کر رہا ہے؟ یہ کام کسی کو خوش کرنے کے لئے کئے جارہے ہیں یا پھر ایل ڈی اے اپنی خوشی کے لئے کر رہا ہے ؟