مہم کے دوران 3۔23 ملین سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے
صوبائی ٹاسک فورس کا لاہور میں تمام یونین کونسلوں میں دسمبر میں خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ
پولیو ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات جاری، کوئی بچہ بھی ویکسین کے قطرے
پینے سے محروم نہیں رہنا چاہیے، خصوصی انتظامات کیے جائیں، چیف سیکرٹری کا ڈپٹی کمشنرز کو حکم
پنجاب میں قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز 15 دسمبر سے ہوگا۔ اس سلسلے میں لاہور میں صوبائی انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اعلی سطحی آن لائن اجلاس منعقد ہواجس میں صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عظمیٰ کاردار، محکمہ داخلہ، صحت اور تعلیم کے سیکرٹریز کے علاوہ پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے عالمی اداروں کے نمائندگان، تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
صوبائی دارلحکومت کی تمام یونین کونسلوں میں دسمبر 15 سے خصوصی انسداد پولیو مہم کے تحت 3۔23 ملین بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ صوبائی وزیر صحت و آبادی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے اہداف میں جس طرح تمام افسران بشمول کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، سی ای او ہیلتھ سمیت پولیو ورکرز نے محنت کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے، جس طرح موسم کی شدت کی پرواہ کئے بغیر ہمارے ورکرز پاکستان کو پولیو جیسی لعنت سے پاک کرنے کے لئے کام کرتے ہیں وہ تعریف کے اور سراہے جانے کے قابل ہے۔ ہم کسی کو بھی ان کے ساتھ بدتمیزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ پنجاب میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں ضرور کامیاب رہی ہیں، لیکن وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانا ناگزیر ہے۔انہوں نے ”مسڈ چلڈرن” یعنی وہ بچے جو ویکسینیشن سے محروم رہ جاتے ہیں، پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر موجود موبائل آبادیوں کی ویکسینیشن کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے، اور موجودہ خامیوں کو دُور کر کے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

