پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کرلیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) —مرُیدکے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی موجودگی اور حالت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔

پولیس نے مرُیدکے میں ہونے والے ان پرتشدد واقعات کے بعد ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا۔ جھڑپوں میں فیکٹری ایریا پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او شہید ہوگئے جبکہ متعدد سرکاری و نجی گاڑیاں نذرِ آتش ہو گئیں۔

مرُیدکے سٹی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق، ٹی ایل پی کارکنوں نے احتجاج کے دوران پولیس پارٹی پر حملہ کیا، سرکاری فرائض میں مزاحمت کی اور علاقے میں بدامنی پھیلائی۔مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6 اور 7 کے تحت، اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 (قتل)، 435 (آتشزدگی) اور 431 (سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ مسلح مظاہرین نے ڈنڈوں، پتھروں اور اسلحے سے پولیس پر حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کرلی گئی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مرُیدکے میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔ اضافی پولیس نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کی گرفتاری کیلئے چھاپے بھی جاری ہیں۔

تحقیقات کے مطابق، ٹی ایچ کیو اسپتال مرُیدکے کے انچارج قادِر نے بتایا کہ تقریباً 150 زخمیوں کو اسپتال لایا گیا جن میں ٹی ایل پی کارکنان اور عام شہری شامل تھےاور سب کے جسم پر گولیوں کے زخم تھے۔ ان میں سے 19 زخمیوں کو حالت نازک ہونے پر میؤہسپتال لاہور منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب، ٹی ایل پی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ سعد رضوی تصادم کے دوران زخمی ہونے کے بعد موٹر سائیکل پر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیے گئے۔ بعد ازاں، انتظامیہ نے علاقے کو دھو کر صاف کیا اور مبینہ طور پر ہلاک کارکنوں کی لاشیں کنٹینرز میں منتقل کیں۔

عینی شاہدین کے مطابق، کئی مظاہرین جھڑپوں کے دوران قریبی گلیوں میں بھاگ گئے، جن میں بعض فرار کے دوران ہلاک ہوئے۔ مرُیدکے کی سبزی منڈی اور متعدد گاڑیاں آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔

ملک کے مختلف شہروں میں بھی ٹی ایل پی کے مظاہرے پھوٹ پڑے، جب تنظیم نے اعلان کیا کہ ان کےسربراہ گولی لگنے سے زخمی ہوئےہیں۔ احتجاج کے دوران اہم شاہراہیں بند اور ٹائر نذرِ آتش کیے گئے۔

پیر کی شام تک شیخوپورہ اور مرُیدکے میں حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہوگئے۔ ٹی ایل پی کے دھرنے ختم ہونے کے بعد سرگرمیاں بحال ہوگئیں، جبکہ ہائی ویز بھی آمدورفت کیلئےکھول دی گئیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں