پینٹاگون کا فوجیوں کو منی سوٹا میں ممکنہ تعیناتی کیلئےتیار رہنے کا حکم

منی سوٹا(نمائندہ خصوصی)امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے الاسکا میں تعینات تقریباً ڈیڑھ ہزار فعال فوجیوں کو منی سوٹا میں ممکنہ تعیناتی کیلئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام منی ایپولس اور سینٹ پال میں جاری وفاقی امیگریشن چھاپوں کے خلاف احتجاج کے پیشِ نظر کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی فوج کی 11ویں ایئربورن ڈویژن کے دو انفنٹری بٹالینز کو “تیار رہنے” کے احکامات دیے گئے ہیں، جو سخت سرد موسم اور آرکٹک حالات میں آپریشن کی مہارت رکھتے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ فوجی کمانڈر اِن چیف کے احکامات پر عمل کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں، تاہم کسی تعیناتی کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

منی ایپولس میں تقریباً 3000 وفاقی امیگریشن اور بارڈر کنٹرول ایجنٹس کی موجودگی کیخلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرے ایک مقامی خاتون رینی نیکول گڈ کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد شروع ہوئے، چھاپوں کے دوران متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ آئی سی ای کے مطابق منی ایپولس سے گرفتار ہونے والا نکاراگوا کا شہری ٹیکساس میں حراست کے دوران انتقال کر گیا، جبکہ وینزویلا کے ایک شہری کو ٹانگ میں گولی لگی اور دو کمسن بچے آنسو گیس سے شدید متاثر ہوئے۔

آئی سی ای کے ڈائریکٹر کے مطابق منی سوٹا میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد اب تک 2,500 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں نے حراستی مراکز میں غیر انسانی حالات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں “انسریکشن ایکٹ” نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں کہا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔

منی ایپولس کے میئر جیکب فرے نے وفاقی ایجنٹس کو “قابض فورس” قرار دیتے ہوئے کارروائیوں کو غیر آئینی قرار دیا، جبکہ منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز نے نیشنل گارڈ کو متحرک رہنے کا حکم دیا لیکن سڑکوں پر تعینات نہیں کیا۔ امریکی وزیرِ داخلہ کرسٹی نوم نے کہا کہ امیگریشن کریک ڈاؤن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام “خطرناک افراد” کو گرفتار کر کے ملک بدر نہ کیا جائے۔