پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے سنگین قانونی اعتراضات ریکارڈ کرلیے

لاہور(نمائندہ خصوصی)ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کیخلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے اہم قانونی و آئینی اعتراضات باقاعدہ طور پر ریکارڈ کرلیے ہیں۔

عدالت میں صبح 8 بجے سماعت کے دوران درخواست گزار نے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو پی آئی اے ایکٹ 2016 کی شق 3 اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نجکاری کیلئے نہ پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی اور نہ ہی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) سے اجازت حاصل کی گئی۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے کے مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 800 ارب روپے ہے، تاہم اسے محض 134 ارب روپے میں نجکاری کیلئے پیش کیا جا رہا ہے، جس میں سے صرف 7.5فیصد رقم حکومت کو ملے گی جبکہ بقیہ رقم کامیاب بولی دہندہ کو منتقل ہوگی۔ مزید یہ کہ 4 ارب روپے بولی دینے والی کمپنی کو ادا کرنے کی تجویز ہے، جس کے بعد حکومت کو 800 ارب روپے کے اثاثوں کے بدلے محض 2 سے 3 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ان حقائق کی تردید یا وضاحت نہ کرسکے، جس پر عدالت نے کیس دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے انہیں سیکرٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن سے ہدایات لینے کا حکم دیا۔دوپہر 12 بجے دوبارہ سماعت پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ معاملہ درخواست گزار کے اعتراضات کے ازالے اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے سیکرٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن کو بھجوا دیا جائے۔

عدالت نےحکم نامے میں درخواست گزار کے تمام اعتراضات، جن میں پارلیمانی منظوری کا فقدان، ای سی سی کی اجازت نہ ہونا اور قومی اثاثوں کی مبینہ کم قیمت پر فروخت شامل ہے، ریکارڈ پر لے لیے۔لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ پیر کے روز دوپہر 12 بجے درخواست گزار کو ذاتی سماعت کا موقع دیں اور سماعت کے سات روز کے اندر لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی، جسے قومی ایئرلائن کی نجکاری کیخلاف جاری قانونی جدوجہد میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔