پی آئی اے کے اثاثے صرف طیاروں تک محدود نہیں:ندیم ممتاز قریشی

ملتان(نمائندہ خصوصی)مستقبل پاکستان کے چیئرمین انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی حالیہ نجکاری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قومی ادارے کے مستقبل کا فیصلہ محض فوری کیش فلو کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ اس کے مجموعی اثاثوں، آمدن کی صلاحیت اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا ادارہ ہے جو آج بھی محض خسارے کی کہانی نہیں بلکہ اربوں روپے کے اثاثوں اور ریونیو پوٹینشل کا حامل ہے، مگر بدانتظامی اور غلط فیصلوں نے اس کی اصل قدر کو پسِ پشت ڈال دیا۔

انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ پی آئی اے کے پاس اس وقت تقریباً 32 فعال طیاروں پر مشتمل بیڑا موجود ہے جو 20 ملکی اور 28 بین الاقوامی روٹس پر پروازیں چلاتا رہا ہے، اور ایک وقت میں سالانہ 60 لاکھ سے زائد مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پی آئی اے نہ صرف مسافر برداری بلکہ کارگو سروسز کے ذریعے بھی اربوں روپے کا زرِ مبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتی ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا کے روٹس پر۔

چیئرمین مستقبل پاکستان نے کہا کہ پی آئی اے کے اثاثے صرف طیاروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پاس دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں قیمتی جائیدادیں بھی موجود رہی ہیں، جن میں نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل نمایاں ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو مختلف رپورٹس کے مطابق 300 سے 400 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح یورپ میں موجود ہوٹل اور دیگر کمرشل اثاثے بھی پی آئی اے کے بیلنس شیٹ کا حصہ رہے ہیں، جنہیں بہتر کمرشل ماڈل کے تحت قومی خزانے کیلئےمستقل آمدن کا ذریعہ بنایا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری مالیاتی رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کے مجموعی اثاثے تقریباً 160 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں، جبکہ واجبات اور قرضے 800 ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں، جن میں سے بڑی رقم بدانتظامی، غیر ضروری سیاسی بھرتیوں اور ناقص گورننس کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ نجکاری کے عمل میں 75 فیصد حصص تقریباً 135 ارب روپے میں فروخت کرنے کا دعویٰ کیا گیا، مگر حکومت کو فوری طور پر کیش کی صورت میں صرف 10 ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ باقی سرمایہ کاری نئی انتظامیہ کی جانب سے ادارے میں لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔

انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ اس سودے کے نتیجے میں تقریباً 628 ارب روپے کے پرانے قرضے اور 500 ارب روپے سے زائد کی منفی ایکویٹی بدستور حکومت اور بالآخر عوام کے ذمے رہی، جبکہ کنسلٹنسی اور ٹرانزیکشن فیس کی مد میں بھی چار ارب روپے سے زائد خرچ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اثاثے منتقل ہو جائیں، انتظامی کنٹرول چلا جائے اور قرض و خسارہ قوم کے کھاتے میں ڈال دیا جائے تو یہ مالی اصلاح نہیں بلکہ بوجھ کی منتقلی کہلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں خسارے میں جانے والی ایئرلائنز کو منافع بخش بنانے کی مثالیں موجود ہیں، جہاں پیشہ ورانہ مینجمنٹ، خودمختار بورڈ، سیاسی مداخلت کے خاتمے، روٹس کی ازسرِنو منصوبہ بندی اور کارگو و انجینئرنگ سروسز کو کمرشل بنیادوں پر فعال بنا کر اداروں کو بحال کیا گیا۔ اگر پی آئی اے کے کارگو بزنس، گراؤنڈ ہینڈلنگ، انجینئرنگ اور ٹریننگ سروسز کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جاتا تو یہ ادارہ نہ صرف اپنے اخراجات پورے کر سکتا تھا بلکہ سالانہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کروا سکتا تھا۔

آخر میں چیئرمین مستقبل پاکستان نے کہا کہ قومی ادارے قوم کی امانت ہوتے ہیں، ان کی نجکاری یا اصلاحات شفافیت، مکمل احتساب اور عوامی اعتماد کے بغیر نہیں کی جا سکتیں۔ پی آئی اے کو بوجھ نہیں بلکہ طاقت بنایا جا سکتا تھا، بشرطیکہ فیصلے وقتی دباؤ کے بجائے دور اندیشی، دیانت اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جاتے۔