پی ایف یو جے کی پلاٹینم جوبلی پر وضاحتی گزارش!

کراچی والے دوستوں، بھائیوں اور بچوں کو داد دنیا ہوگی کہ وہ سوچتے اور عمل بھی کرتے ہیں۔ آج یہ بھائی صحافتی تاریخ میں ٹریڈ یونین کی حامل فیڈریشن کی پچھتر(75) سالہ سالگرہ منا رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے کراچی ہی کے معروف فریر ہال کا انتخاب کیا گیا ہے، دعوت کے مطابق اس تقریب میں ملک بھر سے صحافتی تنظیموں کے عہدیدار اور سینئر حضرات شرکت کریں گے جبکہ روایت کے مطابق منتظمین کے یو جے والوں نے کچھ اہم رہنماؤں کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جن کا تعلق سیاست اور زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے۔ یہ سالگرہ جس ہال میں منائی جا رہی ہے، اسی میں اس تنظیم کی 75سال قبل بنیاد رکھی گئی اور اس کے بانی محترم عبدالشکور تھے۔ برادرم مظہر عباس کی طرف سے اشتہار نما دعوت نامہ مجھے بھی موصول ہوا، جواب میں، میں نے دکھی دل کے ساتھ عرض کیا کہ پلاٹینم جوبلی منانے کا خیال زبردست ہے اور کراچی کے دوست شاباش کے حق دار ہیں تاہم مجھے خوشی ہوتی کہ یہ تقریب دھڑے بندی کے بغیر متحدہ طور پر منائی جاتی۔ یہ بہتر موقع تھا کہ تھوڑی کوشش کرکے اس تنظیم کے دوسرے دھڑوں کو ملا کر پھر سے ایک متحدہ فورم ہو جاتا تو شان اور بڑھ جاتی، بہرحال بوجوہ ایسا نہیں ہوا اور میں شریک نہیں ہوں کہ ایک دور میں جب صرف دو یا تین دھڑے تھے تو میں اپنی بھرپور کوشش اور بڑوں کو شامل کراکے بھی اتحاد کرانے میں ناکام ہو گیا تھا، اس سب کے باوجود میں کراچی والے دوستوں کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ بہتر سوچتے اور عمل کر جاتے ہیں،یوں جو بڑھ کر تھام لے مینا اسی کا ہوتا ہے لہٰذا میں آج (ہفتہ 2اگست) کے دن ان کو مبارک پیش کرتا ہوں اور ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ اتحاد کی کوشش کریں اور زیادہ ذمہ داری ان پر ہے جو خود کو بڑا حقدار جانتے ہیں۔

یہ میری اپنی کاہلی اور سستی ہے کہ خود اپنے اصولوں کے تحت ان امور پر لکھنے سے گریز کرتا ہوں کہ اللہ نے مہلت، ہمت اور وقت دیا تو کتاب ہی لکھ لوں گا تاہم کبھی کبھی مجھے خیال آ ہی جاتا ہے تو بعض دوستوں کی تحریر سے متاثر ہو کر وضاحتی کالم لکھ لیتا ہوں۔ برادرم مظہر عباس نے جو میرے ساتھ متحدہ فیڈریشن میں بھی رہے اور اب پھر سے متحرک ہو گئے کہ وہ جواں سال ہیں اور ابھی میری طرح بوڑھے نہیں ہوئے کہ کھڈے لائن لگ جانا بہتر سمجھیں۔انہوں نے جو بھی تحریر کیاو ہ اپنی جگہ درست اور قابل تعریف ہے تاہم ان کی اس تحریر کے حوالے سے کچھ وضاحت لازم ہو گئی ہے کہ انہوں نے بھی خود کو کراچی تک محدود رکھا اگرچہ عبدالشکور صاحب کے بعد منہاج برنا، نثار عثمانی اور آئی ایچ راشد ان کے ذہن میں ہیں،تاہم وہ ولی محمد واجد مرحوم، ریاض ملک، عزیز مظہر، الطاف قریشی، شفقت تنویر مرزا،اے ٹی چودھری اور مجھ سمیت کئی لاہوریوں کے نام بھول گئے۔ بات ان کی درست تاہم تاریخ کے واقعات کو سیدھا رکھنے کی ضرورت ہے تو یہ عرض کروں کہ تنظیم کا جنم ضرور کراچی میں ہوا، لیکن اس کی پرورش، جوانی اور ادھیڑ عمری لاہور ہی میں ہوئی اور جو تحریکیں پی ایف یو جے کے کریڈٹ میں ہیں وہ سب لاہور سے شروع ہوئیں اور یہیں پلی بڑھیں اور کامیاب ہوئیں، بے شک کراچی،پشاور، ملتان، بہاولپور، راولپنڈی اور دیگر شہروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔برادرم نے جن تحریکوں کا ذکر کیا، ان سب کا آغاز لاہور ہی سے ہوا اور سب سے بڑی تحریک 1970ء والی تھی جس میں 17روزہ ہڑتال کی گئی اور اخبارات شائع نہ ہوئے یا نہ ہونے دیئے گئے اور یہ ہڑتال انٹیرم ریلیف سب کے لئے تھی کہ حکومت کی طرف سے ”عبوری امداد“ کا اعلان سابقہ معمول کے مطابق صرف صحافی برادری کے لئے کیا گیا تھا لیکن فیڈریشن نے یہ فیصلہ منظور نہ کیا اور عبوری امداد تمام اخباری صنعت کے کارکنوں کے لئے مطالبہ کیا تھا۔

یہ یاد دلا دوں کہ اس دور میں ابھی سانحہ ڈھاکہ نہیں ہوا تھا، متحدہ پاکستان کی پی ایف یو جے کے صدر مشرقی پاکستان والے کے جی مصطفےٰ اور آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل منہاج برنا تھے اور یہ فیصلہ پی ایف یو جے کی مجلس عاملہ نے کیا اور پھر آئین کے مطابق تمام ضلعی تنظیموں سے باقاعدہ رائے لی گئی اور مطالبات کی منظوری کے لئے ہڑتال کی جائے یا نہیں،یہ آئین کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوا۔ ذیلی تنظیموں نے ہڑتال کے حق میں فیصلہ دیا اور پھر باقاعدہ نوٹس دیکر ہڑتال کی گئی، یہ 17روز تک جاری رہی۔ کے جی مصطفےٰ خود ڈھاکہ سے لاہور آئے اور پوری قیادت متحرک تھی اور مظاہروں میں شرکت کرتی تھی۔ یہ بڑا مشکل دور تھا کہ ان دنوں دائیں اور بائیں بازو کا بڑا تنازعہ تھا، اسی دور میں ایشیا سرخ ہے اور ایشیا سبز ہے کے نعرے لگتے تھے،اس 17روزہ ہڑتال میں بڑے کٹھن مراحل آئے۔ حکومت اور مالکان ایک طرف اور کارکن دوسری طرف تھے مجموعی طور پر کارکن ثابت قدم رہے اور 17روزہ ہڑتال کے بعد عبوری امداد کا مسئلہ حل ہونے پر یہ ہڑتال ختم ہوئی، لیکن اس دوران میرے سمیت شفقت تنویر مرزا، عزیز مظہر، الطاف حسین قریشی،اورنگزیب اور متعدد دیگر حضرات بے روزگار کر دیئے گئے تھے۔

پھر چشم فلک نے ایک روز نظارہ دیکھا، قدرت نے فیصلہ کیا اور پیپلزپارٹی کے رہنما سابق وزیراعلیٰ محمد حنیف رامے نے ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر روزنامہ ”مساوات“ کا اجراء کیا جو 7جولائی 1970ء کو شروع ہوا اس اخبار میں ہم بے روزگار کھپا لئے گئے۔

ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ 1970ء کی ”عبوری امداد سب کے لئے“ والی تحریک آخری متحدہ (پاکستان) تحریک تھی۔ اس کے بعد والی جو تحریکیں 1974ء اور 1977ء میں شروع ہوئیں وہ موجودہ پاکستان کی تھیں اور بڑی تحریکیں تھیں، ان کا مرکز بھی لاہور تھا، کراچی، کوئٹہ، ملتان، بہاولپور، راولپنڈی اور پشاور سمیت ہر شہر سے اخبار صنعت کے کارکن لاہور آکر شریک ہوتے اور گرفتار ہوتے تھے۔1974ء کی تحریک اس وقت کی حکومت کے خلاف تھی کہ روزنامہ مساوات میں سے محترم عباس اطہر نے انتقامی کارروائی کے تحت 39کارکن برطرف کر دیئے تھے، جن میں سرفہرت راقم، ہمراز احسن اور راجہ اورنگزیب تھے۔ یہ تحریک بھی طویل تھی اور اخباری صنعت کے تمام کارکنوں نے حصہ لیا تھا کہ 1970ء کی تحریک کے نتیجے میں آل پاکستان نیوز پیپرز کنفیڈریشن (ایپنک) بن چکی تھی، اس کا قیام کراچی میں ہونے والی ایف ای سی کی میٹنگ میں فیصلے کے بعد ہوا اور اس کے قیام میں بھی خاکسار کا حصہ تھاپھر 1977کی ”آزادی صحافت“ والی معرکہ انگیز تحریک کا مرکز بھی تو لاہور ہی تھا، اور دیگر شہروں کے دوست بھی یہاں آکر گرفتاری پیش کرتے تھے، یہ میری کاہلی یا بے غرضی ہے کہ میں کبھی اچھل اچھل کر پانچوں سواروں میں شامل ہونے والا نہیں، اس لئے ”یاروں ہی کا کام ہے“والا کام کبھی نہیں کیا، جب فیڈریشن کی کارکردگی کی تاریخ مرتب کرنے کی باری آئی تو اسی وجہ سے قرعہ فال محمود زمان (مرحوم) کے نام نکلا اور وہ اس فرض کو پورا نہ کر سکے جس کے باعث: سب سے بڑی جنگ: میں لاہور کا ذکر بہت معمولی ہے۔

میں نے اب بھی یہ گزارشات برادرم مظہر عباس کی تحریر کے حوالے سے وضاحت کے لئے لکھیں، دعاگو ہوں کہ تقریب کامیابی سے ہمکنار ہو اور اتحاد کا ذریعہ بھی بن جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں